اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بچت مہم ، ضرورت و اہمیت

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بھیانک اثرات عالمی معیشت پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں حالیہ دو ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل 103ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا جبکہ ایل این جی کے نرخ بھی جنوری 2023ء کے بعد بلند ترین سطح پر ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملکوں کیلئے خاصی مشکلات کا موجب ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر اثر ڈالتااور مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ان حالات میںمعاشی منصوبہ بندی کیلئے خصوصی اقدامات ضروری ہیں۔ایسے حالات جب عوام مہنگائی کے بوجھ سے پس رہے ہوں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کا بوجھ کم کرے اور مشکلات زدہ عوام کیساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر مؤثر قدامات کرے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات کے اعلان کو بھی اسی طرح تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

کفایت شعاری کی یہ مہم جس کے تحت وفاقی حکومت نے ایندھن بچانے کیلئے سرکاری دفاتر میں استعمال ہونے والی 60 فیصد ٹرانسپورٹ کو دو ماہ کیلئے بند رکھنے سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا‘ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے شروع کی گئی ‘ تاہم حالات ایسے نہ بھی ہوتے اور ایندھن کی سپلائی اور قیمتیں معمول کے مطابق ہوتیں تب بھی ملک عزیز میں کفایت شعاری مہم کی ضرورت اپنی جگہ موجود تھی۔ایسی مہم پاکستان میں صرف وسائل کی بچت کے نقطہ نظر سے اہم نہیں بلکہ وسائل کے ضیاع کی روک تھام اور وسائل کی بد نظمی پر قابو پانے کیلئے بھی اہم ہے۔ ہمارا سرکاری شعبہ اس بد نظمی کی کلاسیکل مثال بن چکا ہے جہاں وسائل کی فراوانی ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ان وسائل کے اخراجات میں کوئی توازن یا مساوات بھی موجود نہیں ۔ وسائل کا بیشتر حصہ بڑے شہروں کی نذر ہو جاتا ہے اور جو ں جوں مرکز سے دور ہوتے جائیں وسائل کی رسائی کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

وسائل کے اخراجات کو مؤثر اور ثمر آور بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ترجیحات کا تعین کیا جائے ‘ اخراجات کیلئے ضرورت و اہمیت کو پیشِ نظر رکھا جائے اوردستیاب وسائل کی صلاحیت سے پورا فائدہ اٹھایا جائے۔ بے جا اخراجات کو مکمل طور پر بند کیا جائے اور مالی وسائل سیاسی اور حکومتی اشرافیہ کی آسائشوں کے بجائے عوامی مقاصد اور مفادات پر خرچ کرنے کی پالیسی بنائی جائے جس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کفایت شعاری کا تصور دیکھنے میں بھلا اور پُر کشش معلوم ہوتا ہے چنانچہ ماضی میں تقریباً ہر حکمران اس کیلئے ارادے باندھتا رہا لیکن کفایت شعاری فی نفسہ ہمارے سسٹم سے دور ہی رہی۔ بلکہ سرکاری شخصیات اور اداروں کا اسراف کفایت شعاری کے تصور کا مذاق اڑاتا رہا۔ موجودہ حکومت ایک بار پھر کفایت شعاری کی داعی بنی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس حوالے سے بڑے دعوے اور اقدامات کیے گئے مگر جن کا حاصلِ جمع کچھ بھی نہ تھا۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تشویشناک حالات کی وجہ سے شروع کی گئی کفایت شعاری مہم کو ملکی سطح کی بچت مہم کا نقطہ آغاز بنایا جاسکتا ہے۔

حکومت نے توسرکاری ملازمین‘ سرکاری کاروباری اداروں اور سرکاری زیر سرپرستی خود مختار محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا ہوا ہے ‘تاہم بچت کی اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں نکل سکتی ہیں‘ مثال کے طور پر کابینہ اور حکومتی حجم کو مناسب حد تک کم کرنے سے اور دفاتر میں مشینی نظام لاگو کرنے سے‘ افرادی قوت کی باقاعدگی اور وقت اور سرمائے کی بچت سے۔ اس طرح وفاق اور صوبوں میں 18ویں ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں وفاقی سطح پر ان کے نام بدل دینے اور ادارے برقرار رکھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں