اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

وسطیٰ ایشیا کیلئے نئی تجارتی گزرگاہ

پاکستان نے سوست بارڈر سے چین کے راستے وسط ایشیا تک براہِ راست زمینی تجارت کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی راہداری سے پہلی تجارتی کھیپ کامیابی سے کرغزستان پہنچائی جا چکی۔ بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی تجارتی منظرنامے میں یہ قدم نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتا بلکہ اسے ایک فعال تجارتی راہداری میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ اس نئی تجارتی گزرگاہ کے پاکستان کو کثیر جہتی فوائد حاصل ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ ملک کی برآمدی منڈیوں کو وسعت دے گی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہوگا۔ دوم‘ یہ پاکستان کو علاقائی تجارت میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھار سکتی ہے‘ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں نئی عالمی سپلائی چینز ترتیب دی جا رہی ہیں۔ سوم‘ زمینی راستے کے باعث ترسیل کے اخراجات میں نمایاں کمی اور وقت کی بچت ہو گی جو برآمد کنندگان کیلئے مسابقتی برتری کا باعث بنے گی۔

پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو زرعی اجناس‘ فارماسیوٹیکل مصنوعات‘ ٹیکسٹائل اور حلال فوڈ برآمد کر سکتا ہے‘ جبکہ وسطی ایشیا سے گیس‘ تیل‘ معدنیات‘ کپاس اور صنعتی خام مال درآمد کر سکتا ہے۔ یوں یہ تجارتی راہداری دوطرفہ معاشی انضمام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے‘ لیکن اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے مربوط حکمت عملی‘ انفراسٹرکچر کی مزید بہتری‘ اور برآمدی شعبے کی استعداد بڑھانا ناگزیر ہے۔ درست سمت میں پیش رفت سے یہ نیا تجارتی راستہ ملکی معیشت کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں