ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ
عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ہیپاٹائٹس رپورٹ 2026ء کے مطابق پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ یہ صورتحال صحتِ عامہ کے ایک وسیع بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جبکہ ہر سال 37ہزار سے زائد افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے تیزی سے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں استعمال شدہ سرنجوں کا بار بار استعمال‘ اتائیوں کی بھرمار اور رسمی و غیر رسمی طبی نظام میں انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد نہ ہونا شامل ہیں۔

یہی عوامل ملک میں ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک جامع حکمت عملی اختیار کرے اور نہ صرف سرکاری بلکہ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں بھی انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ایک سرنج کا ایک بار استعمال‘ خون کی محفوظ منتقلی اور طبی آلات کو جراثیم سے مکمل پاک کرنے جیسے بنیادی اصولوں کو ہر سطح پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ملک گیر سکریننگ پروگرام‘ سستے اور معیاری علاج کی فراہمی‘ اتائیوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور عوامی آگاہی مہمات بھی ملک میں ہیپاٹائٹس کی روک تھام میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔