بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اور ٹیکس خسارہ
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے سبب تیل کی مسلسل بڑھتی عالمی قیمتیں ملکی زرِمبادلہ پر بھاری بوجھ ثابت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مالیاتی توازن اور عوامی فلاح کا تحفظ ایک کڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان حالات میں بڑھتا ٹیکس خسارہ حکومت کیلئے دہرا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دس ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تقریباً 700ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا سامنا ہے‘ جو معاشی حکمت عملی اور ٹیکس وصولی کے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ صورتحال اس گہرے سٹرکچرل بحران کو مزید نمایاں کرتی ہے جس میں ہمارا ٹیکس نظام دہائیوں سے جکڑا ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر محصولات کا مجموعی ہدف 14ہزار 131ارب روپے مقرر کیا گیا تھا‘ گزشتہ برس دسمبر میں اس ہدف کو کم کر کے 13ہزار 979ارب روپے مقرر کیا گیا جبکہ امسال مارچ میں آئی ایم ایف کیساتھ ورچوئل مذاکرات میں اس ہدف کو دوبارہ کم کرتے ہوئے 13 ہزار 450 ارب روپے رکھا گیا‘ مگر یہ بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جولائی سے اپریل ( 10 ماہ ) کے دوران 10 ہزار 910 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر تھا مگر اب تک تقریباً 10200 ارب روپے ہی جمع ہو سکا ہے۔ اپریل میں 1029 ارب روپے کے مقابلے ٹیکس وصولی تقریباً 900 ارب روپے رہی۔ جب بلاواسطہ ٹیکس وصول کرنے میں ناکامی ہو تو حکومت کا آسان ہدف بالواسطہ ٹیکس اور وہ شعبے بن جاتے ہیں جو پہلے ہی دستاویزی معیشت کا حصہ ہوں۔

ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کیلئے سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کا بڑھتا ہوا بوجھ کارپوریٹ سیکٹر اور صنعتوں سے سرمائے کے اخراج کا باعث بن رہا ہے جبکہ ٹیکس خسارے کا دوسرا آسان حل یعنی بالواسطہ ٹیکسز میں تمام تر بوجھ عام آدمی پر منتقل ہوتا ہے‘ جو زیادہ تشویشناک پہلو ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا نظام منصفانہ نہیں۔ جب حکومتی اخراجات اور ٹیکس اہداف پورا کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے جبکہ مہنگائی کی ایسی لہر اٹھتی ہے جس میں سب سے زیادہ وہی طبقہ پِستا ہے‘ جو سب سے کم حیثیت کا حامل ہو۔ یہ بالواسطہ ٹیکسوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں پٹرول کی قیمتیں تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں‘ جس نے مہنگائی کا ایسا طوفان کھڑا کیا ہے۔ عالمی سطح پر مسلمہ اصول یہی ہے کہ پائیدار ٹیکس نظام بالواسطہ کے بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے ٹیکس نظام پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا یہ مؤقف ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام انتہائی پیچیدہ‘ غیر منصفانہ اور مراعات یافتہ طبقے کو زیادہ تحفظ دینے والا ہے۔
عالمی اداروں کی جانب سے بارہا یہ تجویز دی گئی کہ پٹرول اور بجلی پر بالواسطہ ٹیکس بڑھانے کے بجائے حکومت دولتمند طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لائے اور ٹیکس چوری روکنے کیلئے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں۔ جب تک ریٹیل‘ رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے بڑے شعبوں سے کماحقہٗ ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا‘ محصولات کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ ٹیکس کی شرح بڑھانے سے ریونیو نہیں بڑھتا بلکہ اس کیلئے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ضروری ہے۔ مسلسل بڑھتا ٹیکس خسارہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ عوام اور کاروباری طبقے کی قوتِ خرید اب جواب دے چکی ہے۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ حکومت عارضی اقدامات کے بجائے اپنی ترجیحات کو درست کرے اور ٹیکس وصولی کے نظام میں ضروری اصلاحات میں مزید تاخیر نہ کرے۔ اگر اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں اور لیوی جیسے سہاروں سے معیشت کو چلانے کی کوشش کی گئی تو نہ صرف معاشی بحران بڑھے گا بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ عوامی غصے اور سماجی اضطراب کو بھی ہوا دے گا۔