اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سی پیک ، تکمیل میں تاخیر

سی پیک کے 87ویں پراگرس ریویو اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق اس منصوبے کی بروقت تکمیل میں وفاقی وزارتوں کی سست روی اور ادارہ جاتی کمزوریاں رکاوٹ بن چکی ہیں۔ مختلف وفاقی وزارتوں اور اداروں کے درمیان ان منصوبوں کے حوالے سے مؤثر رابطوں کا فقدان ہے‘ سی پیک سے متعلق اہم اجلاسوں میں اکثر وفاقی سیکرٹری شریک ہونا ضروری نہیں سمجھتے‘ اور کئی وزارتوں میں تاحال سی پیک منصوبوں کیلئے بااختیار فوکل پرسن تعینات نہیں کیے گئے۔ ان کمزوریوں کے سبب سی پیک منصوبوں کی نگرانی اور پیشرفت کی رپورٹنگ میں دشوارایاں پیدا ہو رہی ہیں‘اور مانیٹرنگ سسٹم مکمل فعال نہ ہونے کی وجہ سے بروقت اقدامات مشکل ہو گئے ہیں۔ سی پیک ملکی معیشت کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس منصوبے کے بنیادی مقاصد میں پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پانا‘ صنعتی زونز کا قیام‘ سڑکوں اور ریلوے کے ذریعے تجارتی رابطوں کو مضبوط بنانا اور بندرگاہوں کے ذریعے ملکی اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا شامل ہیں۔ چین سی پیک کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اسکی تکمیل ملکی اقتصادی ترقی میں نہ صرف فوری بلکہ طویل مدتی طور پر بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ حکومت کی فوری توجہ اور مؤثر اقدامات کے بغیر یہ موقع ضائع ہو سکتا ہے جبکہ مؤثر حکمت عملی کے ذریعے پاکستان اس منصوبے سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ سی پیک کی تکمیل کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری دور کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں