اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاسی مسائل کا حل افہام و تفہیم سے

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ غیر حل شدہ سیاسی تنازعات صورتحال کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر رہے ہیں‘ سفارتکاری‘ بات چیت اور مکالمہ تنازعات روکنے کا واحد ذریعہ ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان تو درپیش عالمی بحرانوں کے تناظر میں ہے مگر دیکھا جائے تو داخلی طور پر بھی ہمیں یہی معاملہ درپیش ہے۔ ہمارا داخلی سیاسی بحران معاشی بحران کو سنگین بنا رہا اور معاشی بحران سماجی بحران کو جنم دے رہا۔ ان حالات میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے ’فورس‘ بنانے کا اعلان کر کے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان میں سٹریٹ موومنٹ اور رہائی فورس جیسے الفاظ اس بات کا اظہار ہیں کہ وزیراعلیٰ کے پی راستوں کی ناکہ بندی اور دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ والی اسی پرانی حکمت عملی پر کاربند رہتے ہوئے معاملات کو سڑکوں پر حل کرنے کے خواہاں ہیں‘ جو اس سے پہلے بھی متعدد بار ناکام ثابت ہو چکی۔ ریاست کے انتظامی ڈھانچے کے ایک اہم رکن اور ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کیا ان کی پوزیشن ایسے کسی اقدام کی اجازت دیتی ہے‘ یہ سوال یقینا جواب طلب ہے۔

دوسری جانب یہ بھی سمجھا جا سکتا کہ وزیراعلیٰ اپنے ما فی الضمیر کا درست طور پر اظہار نہیں کر سکے اور الفاظ کا چنائو بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ابہام پیدا ہوا مگر یہ بھی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ ایک آئینی منصب ہے جو پورے صوبے کی نمائندگی کرتا ہے۔ کسی بھی وزیراعلیٰ کے لیے قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ جب صوبے کا انتظامی سربراہ سیاسی مقاصد کے لیے جتھوں یا نجی فورسز کی تشکیل کی بات کرتا ہے تو لاشعوری طور پر وہ ریاست کی رِٹ کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ سیاسی رہنما عام کارکنوں کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے‘ جب کوئی سیاسی رہنما‘ جو اعلیٰ انتظامی پوزیشن پر بھی فائز ہو‘ ایسی بیان بازی کرتا ہے تو اس سے کچے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے اور محاذ آرائی کی سوچ جنم لیتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی مطالبات کا حل سڑکوں پر فورسز بنانے کے بجائے پارلیمان اور عدالتوں میں تلاش کیا جاتا ہے۔

پاکستان اس وقت دہشت گردی کی لہر میں اضافے کی صورت میں گونا گوں مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور مزید سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا سیاسی مسائل کے حل کیلئے وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو مسائل کو بڑھانے کے بجائے سلجھانے کا ذریعہ بنے۔ افہام وتفہیم اور مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے سیاسی بحرانوں کا حل تلاش کیا جا سکتا اور بند دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات نہ صرف وفاق اور صوبے کے مابین خلیج کا تاثر بڑھا رہے ہیں بلکہ اس سے اُن عناصر کو بھی شہ ملنے کا خدشہ ہے جو پہلے ہی صوبے کے امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی تاک میں بیٹھے ہیں۔ حالیہ دنوں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات تقاضا کرتے ہیں کہ صوبائی انتظامیہ کی تمام تر توجہ سکیورٹی امور پر مرتکز ہو۔

خیبر پختونخوا دو عشروں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے عفریت سے نبرد آزما ہے‘ ایسے میں سکیورٹی فورسز کی معاونت اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر کے داخلی امن وامان کو بہتر بنانے کے بجائے سیاسی کارکنوں کو ’فورس‘ کا نام دے کر میدان میں اتارنا انتظامی مسائل سے توجہ ہٹانے اور سیاسی کارکنوں کو اطمینان دلانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ احتجاج اور سیاسی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے مگر اسے ریاستی ذمہ داریوں اور انتظامی فرائض کے ساتھ خلط ملط کرنا خطرناک مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ ایک نیا سیاسی محاذ کھولنے کے بجائے وزیراعلیٰ کے پی کو اپنی توجہ عوامی فلاح اور صوبے کے سنگین انتظامی مسائل پر مرکوز کرنی چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ جتھہ بندی کا راستہ کبھی بھی پائیدار سیاسی حل کی طرف نہیں جاتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں