اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ادویات کی قیمتیں

ایک خبر کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ملک میں کینسر‘ ہیپاٹائٹس‘ شوگر اور بلڈ پریشر سمیت دیگر امراض کی ادویات کی قیمتیں 200فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ایسے میں ہر شہری‘ خاص طور پر دائمی بیماریوں کا شکار مریض اپنے علاج کیلئے مالی دباؤ میں مبتلا ہو چکاہے۔ حکومت نے فروری 2024ء میں ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے ڈی ریگولیشن پالیسی نافذ کی تھی جس کے تحت ادویات ساز ادارے قیمتیں خود مقرر کرنے کے مجاز ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بازار میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا اور عوام کو سستی اور معیاری ادویات فراہم کرنا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزرے دو برسوں میں نہ تو مارکیٹ میں مقابلے کا ماحول پیدا ہو سکا اور نہ ہی عوام کو سستی دوائیاں میسر آ سکیں۔

اسکے برعکس ادویات سازوں نے گٹھ جوڑ کرکے منافع خوری کو ترجیح دی۔ ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے مریضوں کے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت اگر ادویات کی قیمتیں مختص کرنے کی ذمہ داری سے عہدبرآ ہونا چاہتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عوام کو میڈیسن کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ شہریوں کو علاج معالجہ کی مناسب سہولتوں کی فراہمی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے‘ لہٰذا میڈیسن پرائس کی ڈی کنٹرول پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے کر اس میں عوامی تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں