اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کفایت شعاری کے اقدامات

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر اس کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ دو ماہ کیلئے کفایت شعاری کے مختلف اقدامات کا اعلان کیا جن میں سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی‘ تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کی بندش‘ سرکاری افسران‘ مشیران اور وفاقی وزرا کے بیرون ملک دوروں پر پابندی سمیت کئی اقدامات شامل ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی کچھ اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جن میں ورک فرام ہوم ‘ سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کے کوٹہ میں کمی اور آن لائن کلاسز جیسے اقدامات شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کی عالمی صورتحال روز بروز نازک ہوتی جارہی ہے‘ ایسے میں توانائی کے بحران سے بچنے کیلئے ایسے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں جو توانائی کی بچت میں مدد دے سکیں۔

مگر کفایت شعاری کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ ہمارے ہاں کفایت شعاری کا نعرہ بآسانی قبول کر لیے جانے والے سیاسی نعروں میں سے ایک ہے ۔ کفایت شعاری اصلاً ہمارے نظام حکومت کے مزاج کا حصہ نہیں بن سکی۔ ہر حکومت کے دور میں نئی گاڑیوں کے بیڑوں کی خریداری‘ سرکاری گھروں اور عمارتوں کی تزئین و آرائش پر بھاری اخراجات‘ شہروں میں ضروری تعمیراتی منصوبوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے بے مقصد منصوبوں پر توجہ جن کا حاصل وصول صرف دکھاوا ہے۔ ایسے اقدامات سے واضح ہو جاتا ہے کہ حکومتوں کے نزدیک صحیح معنوں میں کفایت شعاری کیلئے سنجیدگی کا عالم کیا ہے۔ کفایت شعاری اختیار کرنے کے عملی طریقوں کو سمجھنے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کی تشکیل کا رواج اس کے علاوہ ہے۔

حکومتیں کفایت شعاری کو عملی طور پر نافذ کرنے کیلئے مشاورتی ادارے بھی قائم کرتی آئی ہیں پھر بھی ملک میں کفایت شعاری کے حوالے سے ٹھوس بنیاد قائم نہیں ہو سکی ۔ جنوری 2023ء میں سابق بیورو کریٹ ناصر محمود کھوسہ کی سربراہی میں کفایت شعاری کے اقدامات پر مبنی 15رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ بعد ازاں ایک اور کمیٹی اُسی سال فروری میں اس مقصد سے تشکیل دی گئی کہ یہ پہلی کمیٹی کی تجاویز پر عمل کروائے گی ‘مگر آج تین سال بعد بھی ہمارے مسائل وہی کے وہی ہیں۔ آج بھی ہمارے سماج میں بچت کا کلچر اجنبی ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ ہمیں مسائل کا ادراک نہیں۔ حکومت اور عام آدمی اچھی طرح جانتے ہیں کہ قومی اور انفرادی معیشت میں اتنا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں مگر اس بوجھ میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ کیے جا رہے ہیں۔

تین سال بعد جب کفایت شعاری ایک بار پھر حکومتی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے تو جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں کئی نہایت کارآمد اور مسئلے کو جڑ سے پکڑنے کی صلاحیت کی حامل تھیں۔ مثال کے طور پرسرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50فیصد سٹاف کے گھر سے کام کرنے اورہفتے میں صرف چار دن سرکاری دفاتر کھلنے جیسے اقدامات سے ممکن ہے ایندھن کی کی نمایاں بچت ہو‘ مگر توانائی بچانے کیلئے سارا ملک بند کرنا کوئی حل نہیں۔ ضروری ہے کہ اس کا پائیدار حل موجود ہو۔سرکارکی جانب سے انتہائی مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیاں خرید کر اعلیٰ سرکاری افسروں میں ریوڑیوں کی طرح بانٹ دینے اور ایسی ہی دیگر شاہ خرچیوں سے حکومتی سطح پر بچت کے دعوے کا حق ادا نہیں ہو تا۔

اس طرح تعمیراتی منصوبوں میں بغیر سوچے سمجھے پیسہ کہیں بھی لگا دینے کی روش بھی قومی خزانے کے ضیاع کی بہت بڑی وجہ ہے۔ اس طرزِ عمل کو تبدیل کرنا ہو گا تا کہ عوام کے حقیقی مفاد کیلئے زیادہ رقم خرچ کی جاسکے۔سرکاری افسران کے دفاتر ہوں یا  ہسپتال یا سکول ‘ عمارتوں کی تزئین و آرائش پر بے تحاشا پیسے کے ضیاع کا سلسلہ نہیں رکتا تو کفایت شعاری کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں