اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور حکومتی ابہام

ایران اسرائیل جنگ کے اثرات اب براہِ راست ملکی معیشت اور عوامی زندگی پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری جاری ہے‘ لیکن اس مشکل صورت حال میں حکومتی نمائندوں کی جانب سے دیے جانے والے متضاد بیانات عوامی بے یقینی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک جانب حکومتی نمائندے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کو کسی بڑے بحران یا غیریقینی صورتحال کا سامنا نہیں جبکہ دوسری جانب عوام پر بے تحاشا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ ان متضاد اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی واضح اور مربوط حکمتِ عملی موجود نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ موجودہ غیرمعمولی حالات میں واضح اور مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے۔

عوام کو اعتماد میں لینا اور صورتحال سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ غیر یقینی اور افواہوں کا ماحول معاشی اور سماجی اضطراب کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے سپلائی چین کو مضبوط بنانا‘ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنا بھی ناگزیر ہے۔ واضح حکمتِ عملی‘ مؤثر انتظامی اقدامات اور عوامی اعتماد کی بحالی ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے اس مشکل صورتحال کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں