مہنگائی بے قابو
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 18مارچ کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر سات فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ عید کے قریب مہنگائی کی شرح میں سات فیصد اضافہ شدید تشویش کا باعث ہے۔ چھ مارچ کے بعد سے‘ جب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55روپے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا ہے‘ ہر چیز کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں۔ دکاندار نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں‘ اور انہیں کوئی چیلنج کرنے والا یا قیمتوں پر نظر رکھنے والا نہیں۔ معاشی ماہرین مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور ملک میں منافع خوری کے بڑھتے رجحان کے باعث مہنگائی 12 فیصد تک جانے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

عالمی عوامل اپنی جگہ مگر جب تک ذخیرہ اندوزی و مصنوعی قلت جیسے ہتھکنڈوں پر کڑی نظر نہیں رکھی جائے گی‘ سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد نہیں کرایا جائے گا‘ مہنگائی کی شرح میں کمی کا کوئی امکان نہیں‘ لہٰذا حکومت کو انسدادِ گرانی کمیٹیوں کے ذریعے قیمتوں کے تعین میں شفافیت‘ ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی اور سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ علاوہ ازیں عوام کی قوتِ خرید بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ عوام کی معاشی سکت بڑھائے بغیرعالمی مارکیٹ کے اتار چڑھائو کے اثرات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔