اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

توانائی تنصیبات پر حملے اور نیا معاشی بحران

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شدت اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے پوری دنیا کیلئے خطرے کی ایک نئی گھنٹی بجا دی ہے۔ جنگ کے پھیلتے شعلوں سے اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اس کے اثرات محض اسی خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کی تپش پوری دنیا کی معیشت تک پہنچ کر رہے گی۔ تین ہفتوں سے جاری اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو تیل اور گیس کی تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا ہے جس نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ جب ایندھن کے ذخائر‘ ریفائنریوں اور سپلائی لائنوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب محض ایک ملک کی معیشت پر حملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عالمی معاشی استحکام پر براہِ راست حملہ ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے فضائی حملوں اور ڈرون کارروائیوں نے خلیجی ممالک کی اہم توانائی تنصیبات کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کے نتیجے میں عالمی رسد کا تسلسل بری طرح ٹوٹ چکا ہے اور منڈیوں میں غیر یقینی کی ایک ایسی لہر دوڑ گئی ہے جس کی مثال حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا گراف اس وقت خطرناک بلندی کی طرف گامزن ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر کے 113ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ کی طوالت برقرار رہی اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو سپلائی چین مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہے۔ ماہرینِ معیشت متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 150 ڈالر یا اس سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں‘ جو عالمی سطح پر گرانی کا ایک نیا طوفان لانے کیلئے کافی ہیں۔ ترقی پذیر معیشتوں کیلئے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ پاکستان جو پہلے ہی معاشی عدم استحکام کے خطرے سے دوچار ہے‘ کیلئے تیل و گیس کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ ناقابلِ برداشت بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورو نوش‘ ادویات اور خام مال کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں عوام کی اکثریت خطِ غربت کے قریب زندگی گزار رہی ہے‘ وہاں توانائی کا بحران براہِ راست بھوک اور افلاس میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ عید کے مقدس اور خوشیوں بھرے موقع پر جب عوام حکومتوں کی جانب سے ریلیف اور راحت کی امید لگائے ہوتے ہیں‘ مہنگائی کی یہ نئی لہر ان کی خوشیوں کو گہنا رہی ہے۔

نقل وحمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے پردیسیوں کیلئے اپنے گھروں کو جانا مشکل ہو گیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ عید کی تیاریوں پر بھی مختلف خدشات کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا فوری کوئی قابلِ عمل اور پائیدار حل نہ نکالا گیا تو خدشہ ہے کہ عید کے فوری بعد پٹرول اور گیس کی قلت کے علاوہ ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی پاور گیم اور جنگی جنون کا خمیازہ غریب محنت کشوں کو اپنی خوشیاں قربان کر کے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ توانائی کے بحران اور معاشی تباہی سے بچنے کا واحد راستہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہے۔ عالمی برادری کو اب خاموش تماشائی کی پالیسی ترک کرکے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ توانائی کی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور سپلائی لائنوں کو بحال کیا جا سکے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن محض ایک علاقائی ضرورت نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر جنگ کی یہ آگ فوری طور پر نہ بجھائی گئی تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ انسانیت اور عالمی معاشی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل تلاش کیا جائے تاکہ دنیا کو ایک بڑے معاشی ڈیفالٹ اور انسانی المیے سے بچایا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں