بارش کی تباہ کاریاں
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی اور تیز بارش کے باعث درخت‘ دیواریں‘ چھتیں اور بل بورڈ گرنے کے مختلف واقعات میں 20 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ محکمہ موسمیات نے کئی روز پہلے سے کراچی میں تیز بارشوں کی پیشگوئی کر دی تھی‘ جس کے پیشِ نظر حکومت اور انتظامیہ کو پیشگی اقدامات یقینی بنانے چاہئیں تھے لیکن نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی شہری انتظامیہ کی طرف سے بروقت اقدامات دیکھنے میں آئے۔ بارش کے دوران 800 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرنا اور بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا ہونا انتظامی نقائص کی نشاندہی کرتا ہے۔ بارش سے ہونے والے حادثات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ میگا سٹی کا انفراسٹرکچر ناقص اور غیر محفوظ ہے۔

بوسیدہ اور کمزور عمارتیں اور غیر محفوظ بل بورڈز شہریوں کیلئے جان لیوا خطرہ بن چکے ہیں۔ رواں سال کی پہلی بارش میں ہونے والی یہ تباہی صوبائی حکومت اور شہری انتظامیہ سے مستقبل کیلئے پیشگی انتظامات یقینی بنانے کی متقاضی ہے۔ شہری سطح پر بھی ذمہ داری اور احتیاط لازم ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ شدید آندھی اور بارش کی صورت میں کمزور اور بوسیدہ دیواروں کی اوٹ میں چھپنے سے گریز کریں۔ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں طوفانی بارش کے اثرات سے بچاؤ کیلئے ایک مربوط حکومتی پلان‘ مضبوط انفراسٹرکچر‘ نکاسیِ آب کا مؤثر نظام اور شہری شعور ناگزیر ہے۔ اگر یہ اقدامات بروقت اور مؤثر انداز میں کیے جائیں تو انسانی جانوں اور املاک کے نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔