اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تجارتی خسارہ

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 23 فیصد اضافے کیساتھ 27ارب 81کروڑ ڈالر سے زائد ہو گیا ہے‘ جو گزشتہ برس 22 ارب 67کروڑ ڈالر تھا۔ تجارتی خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں بے تحاشا اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔ رواں مالی سال‘ جولائی تا مارچ کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات 22ارب 73کروڑ ڈالر رہیں جبکہ 50ارب 54ڈالر سے زائد کی اشیا درآمد کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ملک کا تجارتی توازن واضح طور پر درآمدات کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ تجارتی خسارے میں اضافے کا یہ رجحان وقتی یا اتفاقی نہیں بلکہ گزشتہ کئی سال سے تسلسل کیساتھ جاری ہے‘ جس پر حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

برآمدات میں اضافے اور درآمدات پر کنٹرول کے بغیر نہ تو تجارتی خسارے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی معیشت کو ترقی کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے حکومت کو اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ موجودہ علاقائی و عالمی صورتحال بھی جامع عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے عالمی تجارت میں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ضروری ہے کہ تجارتی توازن کو اپنے حق میں کرنے کیلئے برآمدی صنعتوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں