مہنگائی اور منافع خوری
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق دو اپریل کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 9.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں ایل پی جی‘ چکن‘ انڈے‘ دالیں‘ دودھ اور کپڑے سرفہرست ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتیں‘ درآمدی انحصار‘ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی‘ اور سب سے بڑھ کر عوام کی کمزور معاشی سکت شامل ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے معاشی اثرات بھی مزید گہرے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگ کے معاشی اثرات اپنی جگہ‘ اس وقت منافع خور عناصر نے بھی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کی مصنوعی قلت پیدا کر کے من چاہے نرخوں کی وصولی کے بعد اب ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی 25فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے۔

منافع خوروں کو نکیل ڈالے بغیر مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ حکومت جنگی صورتحال کو مہنگائی میں اس ہوشربا اضافے کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہو سکتی بلکہ ان حالات میں حکومت پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مہنگائی کے مستقل تدارک کیلئے ایک ایسا جامع لائحہ عمل ناگزیر ہے جس میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی‘ مقامی پیداوار میں اضافہ‘ زرعی شعبے کو سہولتوں کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر عوام کی آمدن میں حقیقی اضافہ شامل ہو۔