پٹرولیم، تاریخی اضافہ اور اثرات
ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر حکومت نے دوسری بار تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ روز پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافہ کیا گیا‘ اس سے قبل سات مارچ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55‘ 55 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ یوں مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 192.23 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 239.49 روپے کا بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت میں 72 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 85 فیصد بنتا ہے۔ اضافے کی یہ شرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے زیادہ ہے۔ جس روز امریکہ اور اسرائیل نے ایرا ن پر حملہ کیا‘ عالمی منڈی میں تیل کے سودے 72 ڈالر فی بیرل کے قریب ہوئے جبکہ تین اپریل کو تیل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔ یعنی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس ایک ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ تقریباً54 فیصد بنتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کے توانائی کی عالمی قیمتوں پر اثرات سے انکار ممکن نہیں تاہم ملکی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد بھاری ٹیکس صورتحال کو مزید گمبھیر اور ناقابلِ برداشت بنا دیتے ہیں۔ پٹرول کی نئی قیمت بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں اضافے سے زیادہ اس لیے ہے کہ پٹرول پر عائد لیوی کو 106 روپے سے 161 روپے فی لٹر تک بڑھا دیا گیا ہے‘ یعنی 55 روپے فی لٹر کا اضافہ صرف اس مد میں جبکہ 24 روپے 11 پیسے فی لٹر سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی اس کے علاوہ ہے۔ یہ دونوں ٹیکس خالصتاً وفاقی حکومت کی آمدن کیلئے ہیں؛ چنانچہ عام شہری جب موٹر سائیکل یا گاڑی میں پٹرول ڈلواتا ہے تو ان دو مدات میں 184 روپے 72 پیسے نقد حکومت کو ادا کرتا ہے۔ یہ رقم اُس خزانے میں جائے گی جس کا بے رحمانہ استعمال اس عام شہری کیلئے ایک بڑا سوال نشان ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے بلند ترین اضافے کے بعد حکومت کی جانب سے عوام کے لیے مختلف رعایتوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اصولی طور پر عوام کو کوئی رعایت دینے کا بہترین طریقہ یہ ہو سکتا تھا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی مد میں اپنی آمدنی کو مزید بڑھانے سے اجتناب کرتی۔ سپین کی حکومت کے ایک احسن فیصلے کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اُس ملک میں 21 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ ہے۔
وہاں حکومت کے لیے جاری عالمی بحران کے پیش نظر تیل کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہوا تو اُس نے یہ بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح 21 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی‘ یعنی اپنی آمدن کم کر لی لیکن اپنے شہریوں پر بوجھ نہیں ڈالا۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے اورعالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتیں حکومت کے لیے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ حکومتی شاہ خرچیاں جوں کی توں ہیں اور انہیں مالی سہارا دینے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر ٹیکس میں اضافہ حکومت کے لیے آسان آلہ کار بن چکا ہے۔ مگر یاد رہے کہ آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اب اس کے بعد مہنگائی کے طوفان کا انتظار ہے جو پہاڑی علاقوں کے سیلاب کی طرح اوٹ میں چھپا ٹوٹ پڑنے کو ہے۔
عالمی ادارے خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافے سے خبردار کر چکے ہیں مگر ملکی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بے بہا اضافے کے اثرات صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان حالات میں حکومت کی اعلان کردہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے اثرات کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور عوام کے معاشی دباؤ میں کیا واقعی کوئی کمی واقع ہوتی ہے؟ یہ اس وقت کا سب سے اہم سوال ہے۔