بارشیں اور انتظامی نقائص
ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری بارشیں شدید جانی و مالی نقصانات کا سبب بنی ہیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دس روز کے دوران صوبے میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 30افراد جاں بحق اور 85سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں‘ سندھ میں بھی بارشوں کی وجہ سے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 26‘ بلوچستان میں 11اور پنجاب میں چار اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ یعنی رواں سال کے پہلے بارشی سپیل میں مجموعی طور پر 70سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ صورتحال فوری حکومتی توجہ کی متقاضی ہے۔ این ڈی ایم اے رواں برس مون سون میں معمول سے 26فیصد زائد بارشوں سے خبردار کر چکی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ این ڈی ایم اے‘ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور صوبائی حکومتیں مل کر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پیشگی اقدامات یقینی بنائیں۔ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ سے بچاؤ کیلئے نکاسی آب کے مربوط اور مؤثر نظام کی فوری بہتری ناگزیر ہے۔ قدرتی آبی گزرگاہوں میں قائم تجاوزات کا بروقت خاتمہ بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ان عوامل کو نظرانداز کرنا مستقبل میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتا ہے‘ اس لیے اس پہلو پر فوری اور سنجیدہ توجہ ضروری ہے۔