اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قرض کی واپسی

متحدہ عرب امارات کے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر قرض کی رواں ماہ کے اختتام تک واپسی کا فیصلہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس میں 45 کروڑ ڈالر کی رقم مالی سال1996-97ء میں بطور قرض لی گئی تھی جبکہ باقی رقوم 2018ء اور 2019ء میں بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ کے طور پر حاصل کی گئیں‘جن پر ابتدا میں تقریباً تین فیصد جبکہ بعد ازاں چھ سے ساڑھے چھ فیصد تک سود ادا کیا جاتا رہا۔ شرح سود کے لحاظ سے اماراتی قرضے مہنگے ترین قرضے تھے اور انکی ادائیگی معیشت کیلئے بہتر ثابت ہو گی۔اگرچہ اس ادائیگی سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑے گا تاہم مجموعی طور پر اسکے اثرات بہتر ہی ہوں گے کیونکہ ایک تو اس رقم پر شرح سود بتدریج بڑھتی جا رہی ہے‘ دوسرا یو اے ای کی جانب سے ا س میں قلیل مدتی توسیعات نے غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہوئی تھی۔

مزید یہ کہ پاکستان کی معاشی صورتحال میں بھی بتدریج بہتری آ رہی ہے‘ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے درجہ بندی میں اضافہ ہوا ہے اور آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے‘اس طرح اب پاکستان کیلئے دیگر ممالک اور مالیاتی اداروں سے کم شرح سود پر قرض حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم اصل چیلنج بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ ملک کو قرضوں کے مستقل چنگل سے کیسے نکالا جائے‘ جس کیلئے حکومت کو صنعت‘ زراعت اور برآمدات کے فروغ پر مبنی ایک جامع اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ معاشی خود انحصاری ممکن ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں