اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پاکستان پر اعتماد!

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی امن کاوشوں کو سراہنا اور اسلام آباد کے دورے سے متعلق امریکی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی واضح تردید نہ صرف علاقائی سفارتکاری کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی توثیق ہوتی ہے۔ امریکی پریس اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایرانی قیادت اسلام آباد میں ملاقات سے گریزاں ہے‘ تاہم عباس عراقچی کی وضاحت نے ان مفروضوں کو رد کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا اور اس وضاحت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی ایرانی وزیر خارجہ کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور اسے بروقت وضاحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائیاں کسی کیلئے فائدہ مند نہیں ۔یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں مکمل اعتماد کی فضا موجود ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتکاری کے دروازے بند نہیں کر رہابلکہ ایسے مذاکرات کیلئے آمادہ ہے جو پائیدار‘ منصفانہ اور حتمی نتائج کی ضمانت دے سکیں۔

یہ مؤقف نہ صرف ایران کی سنجیدہ سفارتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی جنگ بندی یا عارضی وقفے کے بجائے مستقل حل ہی خطے کے امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے پاکستان ایک ایسا پل بن سکتا ہے جو نہ صرف فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد کرے بلکہ ایک قابلِ قبول مذاکراتی فریم ورک بھی فراہم کرے۔ اسلام آباد کی سفارتی ساکھ‘ اسکی غیر جانبدارانہ پالیسی اور مختلف بلاکس کیساتھ متوازن تعلقات اسے اس کردار کیلئے موزوں بناتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی روایت نہ صرف ناکام ثابت ہو چکی ہے بلکہ اسکے نتائج مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں اور عالمی امن کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ ایسے میں حکمت عملی‘ صبر اور اصولی مذاکرات کا امتزاج ہی واحد راستہ ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ وہ صرف ایسے مذاکرات میں شریک ہوگا جو دیرپا امن کی ضمانت دیں‘ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سفارتکاری کو محض وقتی دباؤ کم کرنے کے آلہ کار کے بجائے مسئلے کے مستقل حل کا ذریعہ بننا چاہیے۔ یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور بلاشبہ ایک امتحان بھی۔

موقع اسلئے کہ سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا تے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں بد امنی کے خاتمے کے پائیدار اقدامات کیے جائیں اور امتحان اسلئے کہ اس کردار کو نہایت دانشمندی‘غیر جانبداری اور تدبر کیساتھ ادا کرنا ہوگا۔ ان حالات میں ہمیں داخلی معاملات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔سیاسی استحکام اور معاشی استقامت وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ مستحکم اور مضبوط ملک ہی سفارتی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا وضاحتی بیان اور پاکستان کی امن کاوشوں کا اعتراف ایک مثبت پیشرفت ہے جو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ متحارب فریقین سنجیدگی‘ صبر اور اصولی مؤقف کیساتھ مذاکرات کی راہ اپناتے ہیں تو یہ نہ صرف موجودہ کشیدگی کو کم کر سکتا ہے بلکہ پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے‘ جو خطے کیلئے استحکام اور امن کا سبب بنے۔ مشرقِ وسطیٰ توانائی کا مرکز ہونے کے ناتے عالمی معیشت کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

حالیہ دنوں آبنائے ہر مز کی بند ش نے توانائی کی قیمتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ایران امریکہ کشیدگی کی طوالت کا مطلب عالمی معیشت کی تباہی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اور دیگر اہم ممالک سفارتی کوششوں کو فعال اور مؤثر بنائیں تاکہ اس بدامنی کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے جس نے عالمی امن اور معیشت کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں