بجلی مزید مہنگی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 42 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 155فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔یہ اضافہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی ساختی بگاڑوں کا مجموعہ ہے۔ کیپسٹی پیمنٹس کا غیر معمولی بوجھ‘ روپے کی مسلسل گراوٹ‘ درآمدی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار اور گردشی قرضے کا مسلسل پھیلاؤ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے بجلی کی لاگت کو ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچا دیا ہے۔ نتیجتاً توانائی کا پورا ڈھانچہ پیداواری کارکردگی کے بجائے مالی دباؤ کا مرکز بن چکا ہے۔

اس پالیسی ناکامی کا سب سے بھاری بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بجلی کے بل گھریلو کرایوں سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔مہنگی بجلی نے چھوٹے کاروبار‘ صنعتوں اور زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے‘ جس کے معیشت پر منفی اثرات ظاہر و باہر ہیں۔ ضروری ہے کہ توانائی کے پورے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیا جائے۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ توانائی کا محفوظ مستقبل قابلِ تجدید توانائی میں ہے اور پاکستان نے 2030ء تک 30 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن اس حوالے سے عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت اس حوالے سے بلاتاخیر اقدامات کرے تاکہ عوام کو سستی بجلی میسر آ سکے۔