اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پائیدار امن کے تقاضے

وزیراعظم شہباز شریف اور لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ پاکستان کی خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم نے لبنان کیخلاف جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے سینکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا لبنانی ہم منصب سے رابطہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کا اظہار ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک پورے خطے میں جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ خطے کا امن ایک اکائی کی مانند ہے جسے حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ امر سب پہ واضح ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کے کسی ایک بھی گوشے میں جنگ کی آگ لگی رہے گی تو اس کی تپش پورے خطے کے سیاسی اور معاشی استحکام کو جھلساتی رہے گی۔ اس سے پہلے غزہ کے معاملے میں ہم اس حقیقت کا بغور مشاہدہ کر چکے ہیں۔ عالمی برادری بالخصوص یورپی یونین‘ برطانیہ‘ فرانس اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے بھی اسی لیے جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو لازمی طور پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ لبنان یا کسی اور علاقائی ملک کو غاصبانہ جارحیت کی نذر کر کے خطے میں حقیقی امن کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی جڑیں ایک دوسرے میں اس قدر پیوست ہیں کہ ایک ملک میں اٹھنے والا طوفان سرحدوں کے پار تک اثرات پہنچاتا ہے۔

آج کے گلوبل ویلیج میں کسی ایک خطے میں بدامنی دنیا کے دوسرے کونے تک اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایران جنگ اس کی واضح مثال ہے‘ جس نے عالمی معیشت‘ بالخصوص آئل انڈسٹری اور ایوی ایشن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ مجموعی طور پر عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات اس قدر زیادہ ہیں کہ دہائیوں تک اس نقصان کی بھرپائی ممکن نہیں۔ ان تلخ حقائق نے دنیا کے ہر باشعور فرد کو یہ باور کرا دیا ہے کہ امن محض انسانی ہمدردی کا تقاضا نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت اور انسانیت کی بقا کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے پاکستان اس صورتحال میں ایک متحرک اور ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے‘ جو نہ صرف سفارتی سطح پر امن کی پکار بلند کر رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان پُل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات اس لحاظ سے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حل کیلئے ایک مشترکہ فریم ورک پر اتفاق کیا جائے گا۔ پاکستان کی سہولت کاری کا محور تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا ہے تاکہ لبنان اور غزہ سمیت پورے خطے میں ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی ممکن ہو سکے۔

لبنان کی موجودہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ وہاں کا انفراسٹرکچر اور انسانی زندگی دہائیوں پر محیط بحرانوں سے چور چور ہے۔ حالیہ جنگ نے لاکھوں افراد کی نقل مکانی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قلت سے ایک ایسا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے‘ جس کے اثرات ہمسایہ ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں لہٰذا یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا حقیقی امن اور پائیدار استحکام مکمل جنگ بندی سے مشروط ہے۔ اور مشرقِ وسطیٰ‘ جو دنیا میں توانائی کا سب سے بڑا ماخذ ہے‘ اس کا امن محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن کی کلید ہے۔ اب سب کی نظریں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ پائیدار امن کا سفر دشوار ضرور ہے لیکن اس کے مقاصد نہایت واضح اور انسانیت کی بھلائی پر مبنی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنی انا اور سٹرٹیجک مفادات سے بالاتر ہو کر اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور اصل فتح اُس امن میں ہے جس میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہر انسان کو زندگی جینے کا مکمل حق میسر ہو۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں