پولیو، مربوط حکمت عملی ناگزیر
رواں سال کی دوسری ملک گیر انسدادِ پولیو مہم میں تین لاکھ سے زائد بچے پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم رہے ہیں۔ قبل ازیں فروری میں بھی دس لاکھ سے زائد بچے پولیو قطروں سے محروم رہ گئے تھے‘ جبکہ 53 ہزار سے زائد کیسز میں والدین نے خود ویکسین پلانے سے انکار کیا۔ پولیو ورکرز سخت موسمی حالات‘ دور دراز علاقوں تک رسائی کی مشکلات اور سکیورٹی خدشات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے گھر گھر پہنچتے ہیں‘ اس کے باوجود اگر ہر بچے تک ویکسین نہیں پہنچ پا رہی تو متعلقہ حکام کو ان بنیادی رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے مؤثر حل پر توجہ دینا ہو گی جو بچوں کی پولیو ویکسین کی راہ میں حائل ہیں۔ ان رکاوٹوں میں سب سے سنگین مسئلہ شدت پسندی اور سکیورٹی خدشات ہیں۔

حالیہ مہم کے دوران ہنگو اور ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیموں پر حملے ہوئے جن میں دو پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ بنوں میں تین پولیو ورکرز کو اغوا بھی کیا گیا۔ ایسے واقعات نہ صرف پولیو مہم کی رفتار کو متاثر کرتے بلکہ فیلڈ ورکرز کے حوصلے پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ دوسری بڑی رکاوٹ عوامی سطح پر شعور کی کمی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ آگاہی مہمات کو مزید مؤثر‘ مقامی روایات اور سماجی تناظر سے ہم آہنگ بنایا جائے اور پولیو مہمات کے دوران سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کیا جائے۔