تجارتی خسارہ
وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر تقریباً 23فیصد اضافے کے ساتھ 28ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران درآمدات کا مجموعی حجم تقریباً 50 ارب 54کروڑ ڈالر تک جا پہنچا جبکہ برآمدات اس کے مقابلے میں محض 22ارب 73کروڑ ڈالر رہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ معیشت کا پیداواری ڈھانچہ اب بھی درآمدی انحصار سے باہر نہیں نکل سکا۔ اس دوران صرف موبائل فونز اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی درآمدات پر چار ارب 35کروڑ ڈالر سے زائد خرچ ہوئے‘ جو غیر ضروری یا کم ترجیحی درآمدات کے زمرے میں آتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات محدود مصنوعات اور چند مخصوص منڈیوں تک مرکوز ہیں جبکہ درآمدات کا دائرہ وسیع اور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

لہٰذا حکومت کو ایک مربوط اور طویل مدتی تجارتی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ آئی ٹی‘ انجینئرنگ‘ فارماسیوٹیکل اور دیگر شعبوں کو خصوصی مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر سکیں۔ حکومت کو برآمدی بنیاد کو وسیع اور متنوع بنانا ہوگا‘ پیداواری لاگت کم کرنا ہوگی اور پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔ بصورت دیگر تجارتی خسارہ نہ صرف بڑھتا رہے گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال کر معاشی استحکام کو بھی خطرے سے دوچار کر دے گا۔