اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اسلام آباد، امیدوں کا محور

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ دوسرے مذاکراتی دور کی تیاریوں اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد کی خبروں نے پوری دنیا کی نظریں پاکستان کے دارالحکومت پر ٹکا دی ہیں جہاں دو ایسے حریفوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے تعلقات کی تاریخ تلخیوں اور بداعتمادی سے بھری پڑی ہے۔ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے اسلام آباد کی سفارتی کوششیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس امید کو تقویت دے رہے ہیں کہ شاید اس بار بات چیت کا سلسلہ مستقل امن اور کسی دیرپا معاہدے تک پہنچ جائے۔ بین الاقوامی برادری بھی دنیا میں پائیدار امن واستحکام کی خواہاں ہے کیونکہ جنگوں اور تنازعات نے عالمی معیشت کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں اب مزید کسی مہم جوئی کی گنجائش انسانی بقا کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس تناظر میں روس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور چین کا یہ اعلان کہ وہ اس نازک مرحلے پر اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا‘ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف سفارت کاری کے امکانات روشن ہو رہے ہیں وہیں دوسری طرف کچھ ایسے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جو مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔

سوموار کو خلیج عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر امریکی قبضے کے واقعے نے مذاکرات کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ اس طرح کے جارحانہ اقدامات اس اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں جو ثالثی کی کوششوں سے بصد مشکل بحال کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے سے معاملات بگڑنے کا سخت اندیشہ پیدا ہوا ہے اور تہران میں اس حوالے سے پائے جانے والے جذبات نے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایرانی وفد کی شرکت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ سے وفد منگل کو واشنگٹن سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہو گا اور مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو اسلام آباد میں ہو گا۔ یہی وہ دن ہے جب جنگ بندی کی میعاد ختم ہو رہی ہے اور پوری دنیا ایک پائیدار امن معاہدے کی خواہاں ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں عالمی معیشت کی نبض جنگ بندی کے معاہدے سے جڑی ہے۔ معاشی ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر خلیج فارس میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی افراطِ زر میں دو سے تین فیصد تک کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگر فریقین میں نیا امن معاہدہ طے نہیں پاتا تو انشورنس کے اخراجات میں اضافے اور طویل بحری راستوں کی وجہ سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے علاوہ روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔ لہٰذا پائیدار امن معاہدہ اب عالمی معیشت کی بقا کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان حالات پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ میں ٹیلی فونک رابطہ اور پاکستان کی جانب سے مکالمے کی فوری ضرورت کا اظہار اس دیرینہ مؤقف کا اعادہ ہے کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات میں پنہاں ہے۔ امید کی جا تی ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے دور میں ضرور شریک ہوگا‘ تاہم ضروری ہے کہ امریکہ کی جانب سے غیر ضروری دباؤ کی وہ پالیسی جو مفاہمتی ماحول کو متاثر کر رہی ہے‘ ترک کی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دباؤ کی سیاست نے کبھی پائیدار حل فراہم نہیں کیا بلکہ اس سے دشمنی کی آگ مزید بھڑکی ہے۔ علاقائی استحکام کا اصل راز بقائے باہمی کے اصول میں مضمر ہے۔

اسلام آباد میں جاری کوششوں کا محور یہی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھیں اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کو آگے بڑھائیں۔ سفارتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے جارحانہ بیانات اور اشتعال انگیزی سے گریز لازمی ہے تاکہ باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔ اسلام آباد نے امن کا ایک اور سنہرا موقع فراہم کیا ہے جہاں فریقین اپنے اختلافات کے پائیدار حل سے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں