ارتھ ڈے
22اپریل کو منائے جانیوالے ’ ارتھ ڈے‘ کا مقصد زمین کے تحفظ اور ماحولیاتی بقا کے حوالے سے اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنا اور یہ احساس دلانا ہے کہ قدرتی وسائل لامحدود نہیں اور اگر انکے بے دریغ استعمال کا یہی رجحان رہا تو زمین آنیوالی نسلوں کیلئے ناقابلِ رہائش ہوجائے گی۔ یہ دن پہلی بار 1970ء میں منایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد صنعتی آلودگی‘ جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کیخلاف شعور بیدار کرنا تھا۔ پاکستان کیلئے یہ دن اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ہمارا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات سے براہِ راست متاثر ہے۔ گلیشیرز کا تیز پگھلاؤ‘ غیر متوقع بارشیں‘ تباہ کن سیلاب‘ شدید ہیٹ ویوز اور فضائی آلودگی جیسے مسائل معمول بن چکے ہیں۔

ایسے حالات میں ارتھ ڈے ہمارے معاشرے کیلئے ایک انتباہ ہے کہ اگر اب بھی اجتماعی سطح پر سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اسلئے حکومت کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیاں بنانی چاہئیں جن میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد‘ صنعتی آلودگی پر مؤثر کنٹرول‘شجرکاری اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر منتقلی شامل ہو۔ شہریوں کو بھی شجرکاری‘ پانی اور بجلی کے غیرضروری استعمال سے اجتناب‘ پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور صفائی کے اصولوں کی پابندی جیسے اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔