ہوائی فائرنگ اور حادثات
اگلے روز کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک ہوائی گولی نے گھر کی بالکونی میں کھڑی 19سالہ طالبہ کی جان لے لی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ملک میں ہر سال 200 کے قریب افراد ہوائی فائرنگ کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں ملک میں اسلحے کی بھرمار اور اس حوالے سے قانون و ضوابط کا کمزور نفاذ ہے۔ شادی بیاہ‘ سیاسی اجتماعات حتیٰ کہ معمولی تقریبات میں بھی ہوائی فائرنگ معمول کی بات بن چکی ہے‘ جو ایک انتہائی خطرناک سماجی رویہ ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک بھر میں موجود غیرقانونی اسلحے کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ لائسنس کے اجرا اور استعمال کے قواعد و ضوابط کو بھی مزید سخت اور شفاف بنایا جائے تاکہ اسلحہ صرف انتہائی محدود اور قانونی مقاصد کیلئے ہی دستیاب ہو سکے۔ جن ممالک میں اسلحے کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیں وہاں اسلحے کا غیر ذمہ دارانہ بلکہ مجرمانہ استعمال نہ ہونے کے برابر ہے‘ نتیجتاً وہاں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ملک سے اسلحہ کلچر کو ختم نہ کیا گیا تو ایسے سانحات جاری رہیں گے جن سے معاشرتی خوف اور عدم تحفظ میں مزید اضافہ ہوگا۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اس ذمہ داری کو کسی تاخیر کے بغیر پورا کرنا ہوگا۔