امن مذاکرات
امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے اسلام آباد میں تیاریاں مکمل ہیں۔ امریکی حکام منگل کے روز نائب صدر جے ڈی وینس کی اسلام آباد روانگی کا عندیہ دے رہے تھے تاہم منگل کی شام تک ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد کی تصدیق کے بارے میں باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر قائل کرنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ امن ہی بقائے انسانی کا تقاضا ہے اور پائیدار امن کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔ ایران امریکہ جنگ کے خاتمے اور فریقین کو اس صورتحال سے نکلنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے پاکستان نے مخلصانہ تعاون کیلئے کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں متحارب فریق دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہوئے‘ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہوا اور اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندگان میں روبرو ملاقات ممکن ہوئی۔ اس پیش رفت کو بہت بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا تھا کہ 1979ء کے بعد دونوں ملکوں میں پہلی بار بالمشافہ مذاکرات کی نوبت آئی۔

اس مذاکراتی دور میں اگرچہ دونوں ملک کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے مگر دونوں جانب توقع موجود تھی اور یہی خوشگوار احساس ان مذاکرات کے اختتام پر بھی حاوی تھا۔ تاہم دوسرے دور سے قبل بعض واقعات نے بدمزگی پیدا کی ہے اور تلخیوں کو بڑھاوا دیا ہے‘ جس سے مذاکراتی عمل پر سابقہ دور کے برعکس بے یقینی کے سائے ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کامیابی کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتی ہے؛ چنانچہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور امن معاہدے کیلئے ضروری تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایرانی فیصلے کیساتھ امریکہ کی جانب سے بھی بدلے میں خوشگوار تاثرات کو عملی طور پر پیش کیا جاتا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کا شکریہ تو ادا کیا مگر ایران کی بحری ناکہ بندی کا عمل بدستور برقرار رہا اور ہر دن اس میں سختی آتی چلی گئی‘ یہاں تک کہ رواں ہفتے کے پہلے روز جب امریکی وفد کو مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ ہونا تھا امریکی بحریہ نے چین سے آنیوالے ایران کے ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنا کر قبضے میں لے لیا۔
ایران نے اس عمل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسکے اگلے روز اسی طرح کے ایک اور واقعے میں بحر الکاہل میں ایرانی بحری جہاز کو امریکی افواج نے قبضے میں لے لیا۔ اس دوران امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات اور سیز فائر‘ جس کی مدت آج ختم ہو چکی ہے‘ میں توسیع نہ کرنے کا اظہار بھی تشویش کا باعث بنا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے اختتام تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو وہ ایران کیساتھ دوبارہ جنگ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ رویہ جنگ کا بگل بجانے کے مترادف ہے جس کے اثرات صرف ایران‘ امریکہ یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے‘ اس جنگ کے شدید اثرات پوری دنیا پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہان امریکہ ایران جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی توانائی کی عالمی منڈیوں کیلئے شہ رگ کی حیثیت ہے؛ چنانچہ امریکہ ایران معاملات کی اونچ نیچ کا فوری اثر توانائی کی عالمی قیمتوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ اگلے روز جب ایران کی جانب سے اس بحری گزرگاہ کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تو تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آئی اور یہ ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
مگر حالیہ دنوں امریکی صدر کی دھمکیوں‘ اقدامات اور ایرانی رہنماؤں کے جواب سے توانائی کی منڈیاں پہلے جیسے ہیجان میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ دنیا کو اس صورتحال کے مضر اثرات سے بچانے کیلئے امریکہ اور ایران کو لچک دکھانا ہو گی۔ یہی ان کے اپنے عوام‘ معیشت اور معاشرت کیلئے بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم یہ ہے کہ اعتماد سازی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ جنگ بندی میں توسیع کا اقدام خطرات کے اس طوفان کو تھام سکتا ہے اور امن کی کامیابی کیلئے ایک اور موقع پیدا ہو سکتا ہے۔