اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

حکومتی توجہ کی منتظر اراضی

ایک خبر کے مطابق پنجاب میں 35لاکھ 82ہزار 950ایکڑ اراضی‘ جو بآسانی قابلِ کاشت بنائی جا سکتی ہے محض لینڈ لیولنگ کے مسائل اور ضروری مشینری نہ ہونے کی وجہ سے بنجر قرار دے دی گئی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو غذائی تحفظ‘ زرعی برآمدات میں اضافے اور مقامی صنعتی خام مال خصوصاً کپاس کی شدید ضرورت ہے۔ پنجاب جیسے زرعی صوبے میں لاکھوں ایکڑ قابلِ کاشت زمین کا محض انتظامی کمزوریوں اور مشینری کی عدم دستیابی کے باعث بنجر رہ جانا پالیسی سازی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ رقبہ‘ 12لاکھ 55ہزار ایکڑ ‘ ڈی جی خان ڈویژن میں ہے۔ اسکے بعد راولپنڈی اور بہاولپور ڈویژنز کا نمبر آتا ہے۔ یعنی جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جہاں کپاس جیسی نقد آور فصل کی بہترین صلاحیت موجود ہے‘ وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔

اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں سرفہرست لینڈ لیولنگ کیلئے درکار بلڈوزروں کی کمی اور موجودہ مشینری کی خستہ حالی ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نئی مشینری کی خریداری کیلئے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کر چکی ہے لیکن اس اہم منصوبے کیلئے محض اعلانات کافی نہیں۔ شفاف عملدرآمد‘ جدید مشینری کی فراہمی اور اسکے مؤثر استعمال کا نظام بھی وضع کرنا ہوگا۔ اگر حکومتی وسائل محدود ہیں تو اس زمین کو مقامی کسانوں کو اس شرط پر پٹے پر دے دیا جائے کہ وہ اسے ایک مخصوص مدت میں قابلِ کاشت بنائیں۔ اس سے نہ صرف زمین آباد ہوگی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں