افراطِ زر میں اضافے کے اثرات
وفاقی ادارۂ شماریات کے گزشتہ ماہ کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں افراطِ زر کی شرح ایک بار پھر دہرے ہندسے میں داخل ہو چکی ہے۔ اپریل میں افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیادوں پر 10.9فیصد رہی‘ مارچ کے مہینے میں یہ شرح 7.3 تھی اور فروری میں سات فیصد۔ افراطِ زر میں اضافے کی یہ شرح نہ صرف گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے بلکہ وزارتِ خزانہ کے اندازوں کو بھی مات دے چکی ہے۔ اپریل میں افراطِ زر کا سرکاری تخمینہ آٹھ سے نو فیصد تھا۔ افراطِ زر کی موجودہ شرح جون‘ جولائی 2024ء کی سطح کو پہنچ چکی ہے۔ 2024ء کو ملکی تاریخ میں بدترین سطح کے افرا طِ زر کے سال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے‘ تاہم اُس سال جولائی سے اس میں کمی آنا شروع ہوئی اور 2024ء کے آخری اور 2025ء کے پہلے چھ ماہ افراطِ زر کے لحاظ سے معتدل رہے۔ 2025ء کے بقیہ چھ ماہ کے دوران بھی مہنگائی ایسی منہ زور نہیں تھی۔ اعداد وشمار میں بیان کریں تو ستمبر سے دسمبر تک تقریباً چھ فیصد کے لگ بھگ۔ تاہم اس سال فروری سے اب تک افراطِ زر میں تین فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

اس صورتحال کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی‘ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی معاشی بے یقینی کے ساتھ ہے۔ پوری دنیا اس بحران سے متاثر ہے اور عالمی معاشی ادارے اور تھنک ٹینک آنے والے وقت میں اس کے منفی اثرات کی شدت سے خبردار کر رہے ہیں۔ دو روز قبل برینٹ کروڈ کی قیمت 125ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ اگرچہ گزشتہ روز یہ 108ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی مگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ سے ایک روز پہلے کی قیمت کے مقابلے میں یہ تقریباً 53 فیصد زیادہ ہے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی اسی حساب سے ہے۔ جنگ کے آغاز سے ایل این جی کی قیمتیں تقریباً 60 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ تیل اور گیس کے علاوہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر کھادوں کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق نائٹروجن کھاد کی قیمتیں 2024ء کی سطح سے تقریباً دو گنا ہو سکتی ہیں جبکہ فاسفیٹ کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ زرعی پیداوار پر اس کے شدید منفی اثرات ہوں گے اور یہ عوامل افراطِ زر میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات پاکستان کی معیشت کیلئے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ خلیجی ممالک میں ہمارے دسیوں لاکھ کارکن مصروفِ روزگار ہیں اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2026ء میں فروری تک مجموعی ترسیلاتِ زر میں سعودی عرب سے 23.5 فیصد‘ متحدہ عرب امارات سے 20.6 فیصد اور بقیہ جی سی سی ممالک سے 9.5 فیصد ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ یعنی پاکستان کی ترسیلاتِ زر کی نصف سے زیادہ آمدنی خلیجی ممالک سے منسلک ہے؛ چنانچہ خلیجی خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کوئی بھی صورتحال‘ خواہ یہ تجارتی راستوں کی بندش کی صورت میں ہو یا کاروباری عدم اعتماد اور ملازمت کے مواقع میں کمی کا سبب بننے والے عوامل بالآخر ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس نازک صورتحال کے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو بچانا‘ افراطِ زر کو قابو میں رکھنا اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات ہمارے معاشی منصوبہ سازوں کی صلاحیتوں کا ا متحان ہے۔
حکومت کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ غریب اور متوسط آمدنی والا طبقہ اس ناگہانی صورتحال سے کم سے کم متاثر ہو۔ اس سلسلے میں حکومت نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو توانائی اور خوراک کی مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ قومی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔