مہنگائی میں اضافہ
ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سات مئی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اس بلند ترین مہنگائی میں سب سے زیادہ حصہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں کا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی 22اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 51فیصد‘ پٹرول 58فیصد‘ ڈیزل 56فیصد‘ ایل پی جی 49فیصد، بجلی 53فیصد اور خشک دودھ کی قیمت میں تقریباً 11فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے تمام تر حکومتی دعوؤں کے برعکس اس میں مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی جیسا سنگین مسئلہ حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

روز افزوں مہنگائی نے جس طرح کم آمدنی والے طبقے کیلئے عرصۂ حیات تنگ کیا ہوا ہے‘ اس کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرتی لیکن اس کے برعکس حکومتی کوششیں محض بیان بازی تک محدود ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے متحرک نہ ہونے کی وجہ سے منافع خور عناصر کی بھی چاندی ہے جس کی وجہ سے ہی مقامی طور پر پیدا کردہ غذائی اجناس بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے تدارک کیلئے کم آمدنی کے حامل طبقے کی معاشی سکت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بننے والے دیگر عوامل پر بھی قابو پائے۔