اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اعتماد کا فقدان اور جنگ کی بھڑکتی چنگاریاں

خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کی بحری جھڑپوں نے عالمی امن کی کوششوں کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔ ابھی گزشتہ حملوں کے آفٹر شاکس ہی ختم نہیں ہوئے تھے کہ دونوں ممالک کے تلخ اور بے لچک رویے نے نئی کشیدگی کو راہ بنانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ ایک طرف امن کی کوششیں جاری ہیں‘ پس پردہ مذاکرات ہو رہے ہیں‘ جنگ بندی کی شرائط کا تبادلہ ہو رہا ہے مگر دوسری طرف کشیدگی بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا تا۔ اس تناظر میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دونوں ممالک مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور مستقل امن معاہد ے کا عندیہ بھی ظاہر کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاملات درست ہونے کے بجائے ہر بار مزید خرابی کی طرف بڑھ جاتے ہیں؟ یہ تضاد ہی اس بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے کیونکہ جب بیانات اور عمل میں تضاد پیدا ہو جائے تو سفارتی کوششیں بے اثر ہونے لگتی ہیں۔ اس وقت مستقل معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد کی وہ گہری خلیج ہے جو دہائیوں کی دشمنی‘ پابندیوں اور پراکسی وار کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ ایک فریق کی امن کی پیشکش کو دوسرا فریق محض وقت حاصل کرنے یا عسکری تیاری کا بہانہ سمجھتا ہے۔

8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے بعد دنیا کو امید تھی کہ اب عقل اور تحمل کی جیت ہو گی اور پائیدار علاقائی استحکام کیلئے کوششیں کی جائیں گی لیکن ایک ماہ کے قلیل عرصے میں ہی دوبارہ دونوں ممالک کا آمنے سامنے آ نا حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اگرچہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے مگر جھڑپوں سے جنگ کی چنگاریوں کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ ایران اور امریکہ میں براہ راست رابطوں اور ثالثی کے لیے تیسرے فریق‘ پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی اقدامات کیے گئے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ مسئلے کے بنیادی فریقین میں بداعتمادی کسی معمولی غلط فہمی کو بھی کسی بڑے فوجی تصادم میں بدل سکتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کی پالیسی اور ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی پر اصرار‘ یہ وہ دو انتہائیں ہیں جو پائیدار امن معاہدے کی راہ میں حائل ہیں۔ دونوں اطراف کے ’’ عقاب‘‘ بھی غالباً اس تنازعے سے نکلنے کے لیے رضا مند نہیں۔ مگر تہران اور واشنگٹن کے فیصلہ ساز دور اندیش ہیں تو انہیں سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے مخالف فریق کو ایسی رعایتیں دینا ہوں گی جو پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکیں۔ آج کے گلوبل وِیلیج میں‘ جہاں معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں‘ آبنائے ہرمز یا خلیجی خطے میں کشیدگی یہیں تک محدود نہیں رہی نہ ایسا ممکن تھا‘ تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے‘ سپلائی چین میں رکاوٹ اور عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر کو اٹھانے کا باعث بنی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اس احساسِ زیاں کا ہے کہ ایک نئی جنگ کسی کے حق میں نہیں‘ فاتح کوئی بھی ہو‘ شکست عالمی معیشت اور انسانیت ہی کے حصے میں آئے گی۔وقت آ گیا ہے کہ متحارب ممالک مستقل فریم ورک کی طرف بڑھیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ محض جنگ بندی کا معاہدہ کافی نہیں جب تک کہ اس کے پیچھے ایک جامع سیاسی حل موجود نہ ہو۔ اگر ایران اور امریکہ اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور ’پہلے تم‘ کی رٹ لگائے رکھیں گے تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی ایسی عالمی آگ بھڑکا سکتی ہے جسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنی امن خواہشات کو عملی اقدامات سے ثابت کریں اور دنیا کو اس مسلسل خوف سے نجات دلائیں جس نے پورے کرۂ ارض کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں