پٹرولیم لیوی کا بوجھ
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 15 روپے فی لٹر اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا ایک نیا بم گرا دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 415 روپے فی لٹر تک جا پہنچی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حالیہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی کی مد میں زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے کی خواہش ہے۔ یعنی پٹرولیم مصنوعات حکومت کیلئے ٹیکس اکٹھا کرنے کا آسان ذریعہ بن چکی ہیں۔ اس وقت حکومت پٹرول پر 117روپے لیوی سمیت مجموعی طور پر تقریباً 145 روپے فی لٹر ٹیکس وصول کرتی ہے جبکہ ڈیزل پر 70 روپے فی لٹر ٹیکس عائد ہیں۔ حکومت رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران عوام سے تقریباً 1330 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق عالمی منڈی سے کم اور حکومت کی مالیاتی کمزوریوں سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔

پٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے یہ طرزِ عمل انتہائی حیران کن ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کردیا جاتا ہے اور جب عالمی قیمتیں کم ہوتی یا مستحکم رہتی ہیں تو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم لیوی بڑھادی جاتی ہے۔یوں ناقص ٹیکس نظام اور حکومتی مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ عوام مہنگے پٹرول اور ڈیزل کی صورت میں برداشت کرتے ہیں۔ ملک میں ٹیکس وصولی کا شفاف نظام آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ متعدد ایسے شعبے ہیں جو ٹیکس سے مکمل یا جزوی طور پر آزاد ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں مگر ڈیزل‘ پٹرول ‘ دودھ اور دیگر ضروریاتِ زندگی پر بلا خیز ٹیکس لاگو کیا ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے‘ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں‘ صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات‘ قوتِ خرید اور غربت میں اضافے کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت سنجیدہ معاشی اصلاحات سے مسلسل فرار اختیار کر رہی ہے۔ ٹیکس چوری روکنے‘ بڑے تاجروں اور بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانے‘ غیر رسمی معیشت کو دستاویزی بنانے اور سرکاری اخراجات کم کرنے جیسے اقدامات پر توجہ دینے کے بجائے ہر بار پٹرولیم لیوی بڑھانے کا آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ معاشی طور پر بھی تباہ کن ہے۔ حکومت کو ایران امریکہ کشیدگی یا عالمی توانائی بحران جیسے حالات کو ریونیو بڑھانے کا سنہری موقع سمجھنے کے بجائے عوامی ریلیف کو ترجیح دینی چاہیے۔ضروری ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے۔ عوام اب مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔