معرکۂ حق کا سال!
معرکۂ حق بنیانٌ مرصوص کی فتح کا پہلا سال پاکستانی قوم کو مبارک ہو۔اس عزت کیلئے ربِ ذوالجلال کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ یہ سال قومی تاریخ میں عزم‘ اتحاد ‘ قومی غیرت اورملی جذبے کی روشن مثال بنا۔اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے ملکی سرحدوں کے مثالی دفاع سے لے کر عالمی سفارتی عروج تک بہت سے شعبوں میں نمایاں منزلت حاصل کی۔ معرکۂ حق کی سب سے بڑی کامیابی قومی اتحاد کا فروغ ہے۔اس قومی معرکے کی بدولت بلا تفریق پوری قوم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی اور قومی مفادات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے جو ہر مشکل وقت میں قوم کو مضبوط بناتا ہے۔معرکۂ حق نے پاکستان کی نوجوان نسل میں حب الوطنی کے جذبے کو جو تابانی بخشی وہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔پاکستان کی نوجوان نسل بھارتی ابلاغی اور ثقافتی حملوں کا بڑا ہدف رہی ہے اور اس کے اثرات ڈھکے چھپے نہیں تھے‘ تاہم معرکۂ حق کی فتح نے ہماری نوجوان نسل کو اپنی قومی صلاحیتوں کا درست ادراک فراہم کر کے انہیں جو فکری توانائی فراہم کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج سائبر سپیس میں پاکستانی نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ اعتما د کے ساتھ اپنا مافی الضمیر پیش کررہے ہیں۔

عالمی اور علاقائی سطح پر بھی پاکستان کو اس فتح عظیم سے بے پناہ ثمرات حاصل ہوئے۔ دنیا نے پاکستان کی طاقت اور اہمیت کو اس حقیقت کے آئینے میں ملاحظہ کیا ہے جو معرکۂ حق کی صورت میں پاکستان کی باصلاحیت اور جرأت مند مسلح افواج کی جوانمردی سے تشکیل دیا گیا ہے ۔ عالمی سیاست میں ایک ناگزیر مڈل پاور کے طور پر ابھرتا ہوا پاکستان معاصر تاریخ کی ایک مستند سچائی ہے ۔امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں پاکستان کے کلیدی کردار نے اس حیثیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔اپنے قومی مفادات‘ مسئلہ کشمیر اور مسلم اُمہ کے مسائل کے حوالے سے بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مؤقف اب پہلے سے زیادہ مؤثر ہے‘ اور دنیا اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے ہمیشہ امن‘ استحکام اور خطے میں بہتر تعلقات کی بات کی ہے مگر ساتھ ہی یہ واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصولی مؤقف پاکستان کی طاقت اور وقار کی علامت ہے۔ معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پوری قوم کو اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی‘ ترقی اور استحکام کیلئے پہلے سے زیادہ پُر عزم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔
اس معرکے کی قوت اور اعتماد کو اپنی طاقت بنا کر قومی جذبے کے ساتھ ترقی کا سفر جاری رکھیں تو منزل دور نہیں۔ ہمیں ذاتی اور سیاسی اختلافات اور مفادات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی ‘ استحکام اور ترقی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اتحاد‘ نظم و ضبط اور قومی مفاد کے جذبے ہی سے قومیں مضبوط بنتی اور ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم معرکۂ حق کے جذبے کے ساتھ متحد رہے تو کوئی طاقت پاکستان کو ترقی اور کامیابی کی راہ پر آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ معرکۂ حق صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا قومی سفر ہے جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قوم متحد ہو تو ہر چیلنج کا مقابلہ کامیابی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہی اتحاد‘ حوصلہ اور عزم پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ سیاسی قیادت کوبھی چاہیے کہ سماج میں ان صفات کے عملی ثبوت مہیا کریں ۔ مفادات کی سیاست کے بجائے قومی عزم کے ساتھ نسبت کو نمایاں کریں اور پاکستان کی ترقی کے سفر میں مل کر چلنے پر اتفاق کریں۔ پاکستان کو قدرت نے بے پناہ وسائل اور امکانات سے نوازا ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سے استفادہ کیا جائے۔ اس کے لیے جن حالات کی ضرورت تھی وہ موجود ہیں‘ قوم میں عزم اورجذبہ مثالی ہے ۔ یعنی لوہا گرم ہے اور اسے قومی ترقی کی صورت میں ڈھالنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔