کھاد بحران کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں ‘ عالمی زرعی معیشت اور غذائی تحفظ بھی اس سے متاثر ہو تادکھائی دے رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خام مال کی عدم دستیابی کے باعث آنے والے دنوں میں ڈی اے پی کھاد کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال بالخصوص فاسفیٹ کی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور گیس کی قلت کے باعث یوریا کھاد کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے۔اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار پر منفی اثرات کا خدشہ ہے۔ اگر کسانوں کو بروقت اور مناسب قیمت پر کھاد نہ مل سکی تو خریف کی فصلیں خصوصاً چاول‘ کپاس‘ گنا اور مکئی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں‘ پانی کی قلت اور بڑھتی پیداواری لاگت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے ایسے میں کھاد کے بحران کا اضافہ زرعی شعبے کیلئے مزید نقصان دہ ہو گا۔ اگرچہ وزیراعظم کی جانب سے کھاد اور خام مال کی متبادل منڈیاں تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن حکومت کو فوری سفارتی اور تجارتی سطح پر اقدامات کرتے ہوئے عملی طور پر متبادل منڈیوں تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ اسی طرح مقامی سطح پر یوریا کھاد کی مطلوبہ مقدار میں تیاری کیلئے کھاد فیکٹریوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ یوریا کا بحران پیدا نہ ہو۔