اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خلیجی حالات کے معاشی اثرات

آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ان خدشات کی توثیق کی گئی ہے قبل ازیں جو سٹیٹ بینک کی ششماہی رپورٹ میں بیان کیے گئے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مضبوط پالیسی اقدامات کے تسلسل نے پاکستان کی معاشی بحالی کو سہارا دیا‘ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات نے پاکستان کے قلیل مدتی معاشی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق باوجویکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے مجموعی عالمی اثرات اب تک کسی حد تک محدود رہے ہیں‘ پاکستان کے داخلی معاشی حالات کیلئے خطرات نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ ان خطرات کا براہِ راست تعلق قیمتوں کے استحکام‘ توانائی اور عوام کی قوتِ خرید سے ہے۔ پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے تاہم خلیج فارس کے خطے میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے سے تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس صورتحال کا دوسرا بڑا نقصان افراطِ زر کی شرح میں مسلسل اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جانا ہے۔ جب فیول اور بجلی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو عام آدمی کی قوتِ خرید جواب دے جاتی ہے‘ جس سے طلب میں کمی آتی ہے‘ اس کا اثر کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے اور اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑنے سے جی ڈی پی کی شرحِ نمو متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب درآمدی ایندھن مہنگا ہونے سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑتا ہے‘ پیداواری لاگت بڑھنے سے برآمدات کی مسابقت متاثر ہوتی ہے اور حجم سکڑنے لگتا ہے۔ یہ غیر متوازن صورتحال کرنسی کی قدر کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اس منظرنامے کا ایک تشویشناک پہلو خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں کمی کا خدشہ ہے۔پاکستان کے سمندر پار کارکنوں کی مجموعی ترسیلات میں خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات نصف سے زائد ہیں۔ ملکی معیشت کیلئے یہ ترسیلات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں تاہم ایران جنگ کے زیر اثر خلیجی ممالک کی اپنی معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں جس کے باعث وہاں روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں اور تارکینِ وطن کی آمدنی میں کمی آرہی ہے۔ خلیج سے ترسیلاتِ زر میں کمی کا اثر زرِمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ غرضیکہ یہ ایک ایسا معاشی بحران ہے جس میں تمام کڑیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔

آئی ایم ایف کی مذکورہ رپورٹ میں ان مسائل کا حل مضبوط معاشی پالیسیاں اور مسلسل اصلاحات کی صورت میں تجویز کیا گیا ہے۔ مالیاتی ادارے کی بتدریج مالیاتی استحکام‘ توانائی کے شعبے میں سٹرکچرل تبدیلیاں‘ ٹیکس ریفارمز‘ گردشی قرضوں کا خاتمہ اور سرکاری اداروں کے خسارے کو کم کرنے سمیت گیارہ شرائط پائیدار ترقی کیلئے بنیاد کا درجہ رکھتی ہیں۔ بیرونی خطرات اور معاشی جھٹکوں سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اندرونی نظام کو خودکفیل اور اس حد تک مضبوط بنایا جائے کہ وہ بیرونی خطرات کو جذب کر سکے۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت‘ ٹیکس چوری کا خاتمہ اور غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات‘جو کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہیں‘اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔ جب زرمبادلہ کے وسائل متنوع ہوں گے اور ٹیکس وصولی کا نظام شفاف اور وسیع تو بیرونی خطرات ملک کے داخلی معاشی منظرنامے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکیں گے۔ برآمدات میں توسیع کیلئے نئی عالمی منڈیوں کی تلاش اور ویلیو ایڈیشن جیسے اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب یہ قیادت کا امتحان ہے کہ وہ درپیش چیلنجز کو اقتصادی بنیادیں درست کرنے کا ایک موقع سمجھ کر بروئے لائے اور آئی ایم ایف کی شرائط و تجاویز پر عمل کرتے ہوئے معیشت کو پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں