روز افزوں مہنگائی
روز بروز بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 15 مئی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 14.52فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں تقریباً 65 فیصد‘ ڈیزل تقریباً 62‘ بجلی 53‘ ایل پی جی 49 اور آٹے کی قیمت میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور غریب طبقہ دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی وہیں کی وہیں ہے جبکہ اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں‘ جس کے نتیجے میں گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

مہنگائی نے نہ صرف عوام کی قوتِ خرید کم کر دی ہے بلکہ ذہنی دباؤ‘ بے چینی اور معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے‘ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے اور سب سے ضروری ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔ اس کے علاوہ مقامی صنعت اور زرعی شعبے کو سہارا دے کر پیداوار بڑھائی جائے تاکہ مارکیٹ میں اشیا کی فراہمی بہتر ہو اور قیمتوں میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔