اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خلیجی ملکوں سے ملک بدری

وزارتِ داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران خلیجی ممالک سے ایک لاکھ 64 ہزار 788 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ سب سے زیادہ‘ ایک لاکھ آٹھ ہزار 29 پاکستانی سعودی عرب سے بے دخل کیے گئے جبکہ متحدہ عرب امارات سے 40 ہزار 497‘ عمان سے نو ہزار 814‘ قطر سے دو ہزار 971‘ بحرین سے دو ہزار 779 اور کویت سے 698 پاکستانی واپس بھیجے گئے۔ سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں میں بڑی تعداد اُن افراد کی بتائی جاتی ہے جو عمرہ ویزا پر وہاں گئے اور بھیک مانگنے‘ غیر قانونی سرگرمیوں اور بعض جرائم میں ملوث پائے گئے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ عمل منظم اور پیشہ ورانہ رجحان بنتا جا رہا ہے اور چند افراد کے ذاتی مفادات اور آسان کمائی کی خواہش سے ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ آسانی کمائی کے اس رجحان کے خاتمے اور جرائم پر مائل ذہنیت کی اصلاح کے بغیر بیرونی ممالک سے پاکستانیوں کی ملک بدری کا سلسلہ رکنا ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ حکومت کو نوجوانوں کی فنی‘ اور پیشہ ورانہ تربیت پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ اگر نوجوانوں کو باعزت روزگار‘ ہنر اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ بھیک یا غیر قانونی ذرائع کے بجائے اپنی صلاحیتوں کے بل پر ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں