مہنگائی اور ناجائز منافع خوری
عیدالاضحی کی آمد کے ساتھ ہی لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ اانتظامی دعوؤں اور زمینی حقائق کے مابین واضح تضاد کو بے نقاب کر رہا ہے۔ انسدادِ گرانی کمیٹیوں‘ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور انفورسمنٹ فورسز کی موجودگی کے باوجود دکاندار سرکاری نرخ ناموں کو نظرانداز کرتے ہوئے من مانے دام وصول کر رہے ہیں جبکہ عام شہری مہنگائی کے اس طوفان میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ خبروں کے مطابق اتوار کے روز لاہور میں ٹماٹر سرکاری نرخ 35 روپے فی کلو کے بجائے 50 سے 60 روپے‘ پیاز 65 کے بجائے 80‘ آلو 20 کے بجائے 50 ‘ لہسن 200 کے بجائے 350‘ ادرک 285کے بجائے 400روپے فی کلو میں فروخت ہوتا رہا۔ یہی صورتحال دیگر سبزیوں اور پھلوں کی بھی ہے۔

عیدالاضحی کے قریب سبز مسالاجات کی قیمتوں میں بھی غیرمعمولی اضافہ ایک مستقل روایت ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت صرف کاغذی کارروائیوں اور نمائشی اقدامات پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اور دیرپا اقدامات کرے۔ سبزی منڈیوں سے لے کر ریٹیل مارکیٹوں تک مکمل نگرانی کا مربوط نظام قائم کیا جائے اور ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی کسان سے صارف تک سپلائی چین میں موجود غیر ضروری مڈل مین کے کردار کو محدود کرنا بھی ناگزیر ہے کیونکہ اکثر منافع کا بڑا حصہ یہی عناصر سمیٹ لیتے ہیں جبکہ بوجھ عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے۔