مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ بندی سے پائیدار قیام امن کی امیدیں تھیں لیکن امریکی صدر کے حالیہ بیانات ‘ اشاروں اور تیاریوں سے ایک بار پھر جنگ کے خطرات منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں ایسی کئی خبریں ہیں جو اِن اندیشوں کو تقویت فراہم کرتی ہے‘ جیسا کہ امریکی صدر کے سوشل میڈیا بیانات کا بدلا ہوا لہجہ۔ اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیاکہ ایران کے پاس وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے‘انہیں فوری طور پر آگے بڑھنا ہوگا ورنہ انکا کچھ نہیں بچے گا۔اس سے ایک روز قبل امریکی صدر نے قومی سلامتی ٹیم کے اعلیٰ اراکین سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ رواں ہفتے وہ دوبارہ سکیورٹی ٹیم کیساتھ ملاقات کریں گے۔ امریکی صدر کا دورۂ چین امریکہ ایران کشیدگی کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا تھا یہاں تک کہ ایسی توقعات بھی ظاہر کی گئیں کہ اس دورے سے پہلے ایران مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت ہو سکتی ہے۔ اب جبکہ یہ دورہ بھی مکمل ہو چکا ہے اور جس قسم کے ماحول میں ہوا ہے وہ بھی دنیا سے اوجھل نہیں‘ ایسے حالات میں ایران کیساتھ دوبارہ کشیدگی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان حالات میں ثالثی اور قیام امن کیلئے سہولت کاری کی غرض سے جو کچھ ممکن ہے پاکستان کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تین روز سے ایران میں ہیں جہاں صدر‘ سپیکر اور وزیر داخلہ و خارجہ سمیت متعدد رہنماؤں کیساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں مگر امریکہ اور ایران کے معاملات کی نوعیت ایسی گمبھیر ہے کہ ان کوششوں کے باوجود فریقین کسی نکتے پر اتفاق رائے قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ فریقین میں اعتماد کا بحران شدت سے موجود ہے کہ کوئی کسی کی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم اس عدم اعتماد کے ماحول میں مثبت تبدیلی کے بغیر دونوں ملکوں میں امن مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا محال لگتا ہے‘ اور نہ ہی یہ کشیدگی ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ ایران مذاکرات کی کامیابی عالمی امن اور معاشی استحکام کی بھی ضرورت ہے۔ مہینہ بھر کے جنگ بندی کے وقفے نے توانائی کی سپلائی کے راستے کو کھولا‘ جزوی طور پر ہی سہی جس سے قیمتوں میں قدرے استحکام رہا۔ تاہم دوبارہ کشیدگی کی طرف جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز میدانِ جنگ بنے گی جس کے نتائج توانائی کی قیمتوں پر تباہ کن اثر ڈالیں گے اور دنیا کیلئے یہ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران مزید تحمل سے کام لیں اور امن کے وقفے کو جنگ کی بھٹی میں تبدیل ہونے سے روکیں اور اپنی شرائط منوانے کی ضد کے بجائے لچک کا مظاہرہ کریں۔
امریکہ اور ایران کی کشیدگی دنیا کے لیے معاشی اور سلامتی کے حوالے سے خطرناک ہے مگر ان ممالک کی اپنی معیشت بھی اسکے تباہ کن اثرات سے محفوظ نہیں۔ امریکہ میں افراطِ زر میں بلند شرح سے اضافہ صارفین کی تشویش کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔ امریکہ میں مئی 2023ء کے بعد اس سال اپریل میں قیمتوں میں سب سے زیادہ تیز رفتار اضافہ ہوا ہے۔ افراطِ زر کی شرح اپریل میں 3.8فیصد تھی جو حالیہ تین برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ بیورو آف لیبر کے مطابق مہنگائی میں نصف اضافہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ہے‘ رہائش اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ میں پٹرول کے ایک گیلن کی قیمت ساڑھے چار ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو جولائی 2022ء کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس داخلی صورتحال میں اس کشیدگی کو بھڑکانا امریکہ کے اپنے مفاد میں نہیں۔
اس کے نتائج موجودہ امریکی انتظامیہ کے لیے سیاسی طور پر بھی ناموافق ہو سکتے ہیں۔ جنگ سے نکلنا اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا سبھی فریقین کے فائدے میں ہے‘ اور دنیا کے مفاد میں بھی۔ یہی بات پاکستان مہینہ بھر سے متحارب فریقین کو باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔