اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کا طوفان

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی 14.75 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 100فیصد‘ آٹا 60 فیصد‘ بجلی 60فیصد‘ ایل پی جی 57فیصداور پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 50فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ مہنگائی میں اس اضافے کو محض جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی کا نتیجہ قرار دینا حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ‘ معاشی سرگرمیوں میں سست روی‘ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور کمزور انتظامی نگرانی ایسے عناصر ہیں جنہوں نے مہنگائی کو دوچند کیا ہے۔

متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو اپنی محدود آمدن میں یہ فیصلہ کرنا دشوار محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کا بل ادا کریں‘ بچوں کی فیس دیں یا گھر کیلئے راشن خریدیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سٹیشنری آئٹمز پر 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ تعلیمی اخراجات کو مزید بڑھائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے‘ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کیخلاف مؤثر کارروائی کرنے‘ اشیائے خورونوش کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنے‘ چھوٹے کاروبار کو سہولتیں دینے‘ زرعی شعبے کی پیداوار بڑھانے اور عوام کی معاشی قوت بہتر بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں