اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بھارتی آبی جارحیت

وزارتِ خارجہ کی جانب سے خبر دار کیا گیا ہے کہ بھارت نے دریائے چناب پر اپنے متنازع آبی منصوبوں کو آگے بڑھایا تو پاکستان اس کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بھارت نے حال ہی میں چناب کے 19لاکھ ایکڑ فٹ پانی کو ایک سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سالال ڈیم میں سلٹ فلشنگ جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ یہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح اور متن دونوں سے متصادم ہیں۔ ورلڈ بینک اور ہیگ کی عالمی ثالثی عدالت بھی سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو جائز قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور عالمی معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔ دریائے چناب سمیت پاکستان کے حصے میں آنے والے دیگر دریاؤں کے پانی سے چھیڑ چھاڑ سے پاکستان کی زرعی پیداوار پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پہلے ہی ملک میں بارشوں کے نظام میں تبدیلی کے باعث زرعی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس لیے اس تنازعے کے اثرات صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے غذائی تحفظ کے خطرات بھی جنم لیں گے۔لہٰذاورلڈ بینک‘ عالمی ثالثی عدالت اور دیگر بااثر عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو آبی جارحیت سے باز رکھنے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔ اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا تو یہ خطہ ایک نئی کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا متحمل جنوبی ایشیا ہرگز نہیں ہو سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں