موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور اقدامات
عالمی یوم ماحولیات پر وزیراعظم شہباز شریف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جن کا عالمی سطح پر ماحولیاتی مضر اثرات میں نہایت کم حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان ماحولیاتی تنزلی کی غیر معمولی انسانی اور معاشی قیمت ادا کر رہا ہے اور یہ چیلنجز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران بے موسمی بارشوں کی وجہ سے ملک میں خوراک کی پیداوار کے شعبے پر اس کے شدید اثرات سامنے آئے۔ شدید بارشوں اور سیلابوں نے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو تباہ کر دیا‘ چاول‘ گنے اور کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بے موسمی بارشوں اور سیلاب‘ خشک سالی کے طویل دورانیے‘ پانی کی قلت‘ درجہ حرارت میں اضافہ اور دیگرمسائل کے قومی معیشت پر شدید اثر ات ہیں۔ صرف یہی دیکھ لینا کافی ہوگا کہ 2022ء اور 2025ء کے سیلابوں سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 33 ارب ڈالر ہے۔

یہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک صورت سے ہونیوالا نقصان ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں اضافے اور گلیشیرز کے غیر معمولی پگھلاؤ سے ملک کے ماحول کو جو دیرپا نقصان ہوا‘ نیز خشک سالی کے جو اثرات ہیں ان کا تخمینہ کیونکر لگایا جا سکتا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والا نقصان کسی حدوحساب سے باہر ہے۔ اور یہ سب کچھ اس ملک کے ساتھ ہو رہا ہے جس کا عالمی موسمیاتی تبدیلیوں میں اپنا حصہ‘ بصورت کاربن اخراج‘ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس طرح پاکستان ان ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی قیمت موسمیاتی المیوں کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس پر حالیہ کچھ برسوں سے‘ بڑھتے ہوئے موسمیاتی نقصانات کے بعد زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور ترقی یافتہ ممالک سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان نقصانات کی تلافی کریں‘ مگر ابھی تک اس حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ بااثر اور ترقی یافتہ عالمی معیشتیں اگرچہ اس حقیقت کو مانتی ہیں کہ اُن کی ترقی کی قیمت ترقی پذیر اور کمزور معیشت والے ممالک برداشت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی سالانہ کانفرنسوں میں بھی اس پر زور دیا جاتا ہے مگر ابھی تک انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر نہیں آئے۔ ترقی یافتہ ممالک کے کاربن اخراج کے اثرات اور ان کے مقابلے میں ان کے موسمیاتی تحفظ کے اقدامات اور اخراجات میں بہت بڑا فرق ہے۔
پاکستان کی جانب سے عالمی فورمز پر اس مقدمے کو مزید شدت سے اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی کلاسیک مثال بن چکا ہے۔ تاہم ملکی سطح پر بھی ہمیں ناگزیر اقدامات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے چند برس پہلے کی حکومتوں کو یہ خطرہ دور دکھائی دیتا ہو اور انہوں نے اس سے نمٹنے کے اقدامات کو پہلی ترجیح نہ بنایا مگر آج یہ خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں اور سال بھر ان کا سامنا رہتا ہے؛ لہٰذا اب موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا ہو گا‘ انفراسٹرکچر کو بے موسمی بارشوں اور سیلابوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں تعمیر کرنا‘ خوراک کی پیداوار پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوڈ سکیورٹی کیلئے اقدامات‘ درجہ حرارت میں اضافے کے منفی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات تاکہ ہمارے شہر آنے والے وقتوں میں رہائشی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ایسی حقیقت ہیں جن کی شدت محض یہ کہنے سے کم نہیں ہو سکتی کہ اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں‘ نہ ہی اس مسئلے پر زوردار بیانات سے مسئلہ حل ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ حقیقی ہے اور یہ حقیقی اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔