اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گلگت بلتستان ،عوامی فیصلے کا دن

آج گلگت بلتستان میں وہ میدان سج رہا ہے جس کا اس خطے کے عوام کو مہینوں سے انتظار تھا۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کیلئے آج24 جنرل نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے اور 9 لاکھ 63 ہزار 34رجسٹرڈ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے آئندہ پانچ برس کیلئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے پہلے عام انتخابات نومبر 2009ء میں منعقد ہوئے تھے۔ اس کے بعد تقریباً سترہ برس کے عرصے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی تین حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہیں۔ یہ حقیقت ملک کے اس حصے میں جمہوری تسلسل اور سیاسی شعور کی عکاسی کرتی ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کا محض ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ قومی سلامتی‘ اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطوں کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ یہ چین کی جانب سے پاکستان کا صدر دروازہ ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکزی راستہ بھی یہی خطہ ہے۔ قدرت نے اس علاقے کو بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ اسی خطے میں واقع ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں اور کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ اپنے بے پناہ قدرتی حسن کی وجہ سے یہ خطہ پاکستان کی سیاحت کا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔

ہر سال لاکھوں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں اور قومی معیشت کو اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ اس خطے کی ایک اور نمایاں یہاں کے امن پسند‘ محنتی اور تعلیم دوست عوام ہیں۔ ملک میں شرح خواندگی کے اعتبار سے یہ خطہ ممتاز مقام رکھتا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘ باہمی احترام اور سماجی نظم و ضبط کے ایسے مظاہر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں جو ملک کے دیگر علاقوں کیلئے بھی مثال بن سکتے ہیں۔ تاہم بے پناہ قدرتی وسائل‘ جغرافیائی اہمیت اور انسانی صلاحیتوں کے باوجود گلگت بلتستان آج بھی متعدد بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ بے روزگاری تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اسی طرح بنیادی انفراسٹرکچر‘ سڑکوں‘ صحت کی سہولتوں اور جدید تعلیمی اداروں کی کمی بھی دیرینہ مسئلہ ہے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ اتنے اہم خطے میں آج بھی کوئی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹی موجود نہیں۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ شہری سہولتوں کی کمی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی خدمات تک رسائی کے مسائل بھی عوام کیلئے مستقل دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا ہے۔ گلگت بلتستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا براہِ راست سامنا کر رہا ہے۔ گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ‘ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے‘ سیلابوں‘ لینڈ سلائیڈنگ اور موسمی بے ترتیبی نے مقامی آبادی کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ ہر سال قیمتی جانوں‘ گھروں‘ فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ نئی منتخب حکومت انتخابی وعدوں سے آگے بڑھ کر ان مسائل کیلئے عملی اقدامات کرے گی‘ عوامی توقعات پر پورا اترے گی اور گلگت بلتستان کو وہ مقام دلانے میں کامیاب ہوگی جس کا یہ حسین‘ باصلاحیت اور قومی اہمیت کا حامل خطہ مستحق ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں