اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن کوششیں اور چیلنجز

امریکہ اور ایران میں گزشتہ ہفتے امن معاہدے میں پیش رفت کی اطمینان بخش خبریں آ رہی تھیں کہ اچانک صورتحال تبدیل ہوئی اور یکم جون سے ایک بار پھر دونوں جانب سے حملوں کی خبریں آنے لگیں۔ اس ہفتے کا کوئی دن نہیں گزرا جب دونوں ملکوں میں حملوں کا تبادلہ نہ ہوا ہو۔ یہ منظر نامہ سنگین اورتشویش کا باعث ہے ۔ اس وقت جب طرفین معاہدے کی پیش رفت کی تصدیق کررہے تھے اور اعلیٰ سطح پر اس کی تصدیق کی جارہی تھی‘ دوبارہ کشیدگی کی نوبت نہیں آنی چاہیے تھی۔ امریکہ اور ایران کو خود اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ جب متنازع امور میں بات اصلاح کی جانب بڑھنے لگی ‘ جوہری معاملات پر اتفاقِ رائے کی باتیں بھی کی جارہی تھیں اور ایران بھی اپنی شرائط تسلیم کر لیے جانے کے اشارے دے رہا تھا تو آخر کیا وجہ ہے کہ معاملات بننے کے بجائے بگڑنے لگے۔ یہ صورتحال امریکہ‘ ایران اور یقینی طور پر خطے کے ممالک اور باقی دنیا کیلئے بھی تشویشناک ہے۔ امریکہ اور ایران میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں اظہر من الشمس ہیں؛ چنانچہ دونوں ملکوںمیں ایک بار پھر کشیدگی پاکستان کیلئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔

اس پس منظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ دورۂ ایران خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ وزیر داخلہ اور خود چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے کس خلوص ‘ جذبے اور لگن کیساتھ متحرک ہے ۔ یقینی طور پر ان کوششوں کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔سب سے بڑی کامیابی تو یہی ہے کہ امریکہ‘ ایران جنگ بندی پر قائل ہو گئے اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنگ بندی کااحترام بھی دونوں فریقوں کی جانب سے جاری رہا تاہم یکم جون سے اب تک‘ ہفتہ بھرمیں جس طرح کشیدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں اس پر پاکستان سمیت ان سبھی حلقوں کو تشویش ہے جو اس جنگ کا خاتمہ اور امریکہ اور ایران میں اتفاقِ رائے کی کوئی ایسی صورت دیکھنا چاہتے ہیں جو یقینی بنا سکے کہ آئندہ اس کشیدگی کا خاتمہ ہو گا‘ ملکوں کی خود مختاری کا احترام کیا جائے گااور خطے میں صلح اور امن کا ماحول قائم ہو گا۔ لیکن امریکہ اور ایران میں اعتماد کا فقدان اس پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران اپنے منجمد اثاثوں سے خاطر خواہ رقوم حاصل کر نا جبکہ امریکہ ایران کی افزدوہ یورینیم کی منتقلی چاہتا ہے۔ ان معاملات میں کوئی بھی پیشرفت اسی صورت ممکن ہے جب فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ ایران اور امریکہ تاریخی طور پر باہمی عدم اعتماد کے بحران کا شکار ہیں۔

دونوں میں ایک طویل مدت سے براہِ راست رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں اور دونوں کی علاقائی اور عالمی پالیسی اکثر ایک دوسرے سے متصادم رہی ہے؛چنانچہ عدم اعتماد کی وجوہ تو اپنی جگہ موجود ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں اس کیفیت سے نکلنا ناگزیر ہے۔ پاکستان دونوں فریقوں میں ثالثی اور پیغام رسانی کا فریضہ خوش اسلوبی سے انجام دے رہا مگر امن کوششوں کی کامیابی کا تقاضایہ ہے کہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی ٹھوس صورتیں موجود ہوں۔ ظاہر ہے یہ یکایک ہونیوالی چیز نہیں لیکن یہاں تک پہنچنے سے پہلے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے اقدامات سے اجتناب کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور ایران میں نئی کشیدگی اس تناظر میں بھی خطرناک ہے کہ یہ اعتماد کی بحالی کی ان کوششوں کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے جو جنگ بندی اور امن مذاکرات کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔

دونوں ملکوں کو بہرصورت تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا تا کہ مفاہمت کے قریب پہنچنے میں آسانی ہو۔ اس سلسلے میں پاکستان کا بھر پور کردار دونوں ملکوں کیلئے امن کا پل تعمیر کرنے میں کافی مددگار ہے تاہم پائیدار امن کیلئے امریکہ اور ایران کو پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔امریکہ اور ایران میں پائیدار امن کا قیام دونوں ملکوں کی اپنی بڑی ضرورت ہے اور خطہ بھی اس کشیدگی کے بھیانک اثرات سے خلاصی چاہتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں