اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تیزاب گردی سنگین جرم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی سے متعلق ایک کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے ہائی کورٹس کو ہدایت کی ہے کہ تیزاب گردی کے مقدمات کا ٹرائل ہر صورت چار ماہ میں مکمل کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے اور متاثرین کیلئے قومی بحالی فنڈ قائم کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل کوئٹہ اور گھوٹکی میں دو خواتین کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ملک عزیز میں ہر سال تقریباً 200 خواتین تیزاب گردی کا شکار ہوتی ہیں جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 1994ء سے 2018ء کے درمیان مجموعی طور پر 9340خواتین اس وحشیانہ جرم کا نشانہ بنیں۔

تیزاب گردی کے متاثرین کے مسائل صرف جسمانی نہیں ہوتے‘ یہ ایک ایسا جرم ہے جو چہرے سے زیادہ شناخت‘ اعتماد اور سماجی وجود کو مسخ کرتا ہے۔اگرچہ ملک میں تیزاب گردی کیخلاف قوانین موجود ہیں جن میں سخت سزائیں اور فروخت کی ریگولیشن شامل ہے لیکن ان پر عمل درآمد کمزورہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تیزاب کی فروخت پر سخت لائسنسنگ اور مکمل ڈیجیٹل نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے اورمتاثرین کیلئے فوری طبی‘ نفسیاتی اور مالی امداد کو یقینی بنایا جائے۔ اس سماجی المیے کے خاتمے کیلئے حکومت‘ عدلیہ اور معاشرے کو مشترکہ طور پر سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر معاشرے کے ناسور خواتین کے خلاف یہ سنگین جرم جاری رکھیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں