اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجٹ اور توقعات

وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 ء کی تیاری کے اس اہم مرحلے پر معاشی ماہرین کی جانب سے سفارشات پیش کی جا رہی ہیں‘ جو معیشت کو سہارا دینے اور اسے پائیدار راستے پر گامزن کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کو بجٹ میں قلیل مدتی استحکام کے روایتی اقدامات اور آئی ایم ایف کے اہداف سے آگے بڑھ کر اپنی توجہ انسانی ترقی‘ پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر مرکوز کرنی چاہیے۔ طویل عرصے سے جاری معاشی جمود‘ مہنگائی کے طوفان اور بیرونی قرضوں کے بوجھ نے ملکی معیشت کو اس حد تک نڈھال کر دیا ہے کہ اب بجٹ خسارہ مزید قرضوں کے بغیر پُر نہیں کیا جا سکتا‘ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آنے والا بجٹ ان مسائل پر توجہ دے جن سے معاشی بنیادوں میں سدھار لایا جا سکے۔ دیرینہ معاشی مسائل بالخصوص غربت میں کمی لانے اور ترقیاتی فوائد کو عوام تک منتقل کرنے کی جانب عملی پیش رفت کرنا ہو گی۔ اس وقت معاشی منظرنامے میں جو سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے وہ غیر متوازن اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام ہے۔

معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بالواسطہ ٹیکس کو مزید بڑھانے‘ جو متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے‘ کے بجائے بجٹ میں ادارہ جاتی اصلاحات‘ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ٹیکس کی شرح کو درست کرنے سے نہ صرف ملک کی صنعتی مسابقت بہتر ہو سکتی ہے‘ مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے برآمدات میں بھی اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اب تک کی ٹیکس پالیسی میں پہلے سے ٹیکس دینے والے شعبوں پر ہی دبائو بڑھایا گیا‘ یہ ناقص پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی۔ ملک کو عبوری اور وقتی فیصلوں کے بجائے ٹیکس سسٹم میں دیرپا‘ گہری اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جب تک ٹیکس چوری کے راستے بند نہیں کیے جاتے اور اس نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کر کے مربوط نہیں کیا جاتا تب تک مالیاتی خسارے کا کوئی حل ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تنخواہ دار اور متوسط طبقہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے بڑا شکار ہے جو پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ لہٰذا معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا‘ مارکیٹ میں نئی ملازمتوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا اب معاشی بقا کیلئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ جب تک عوام کی قوتِ خرید بہتر نہیں ہو گی صنعتوں کے مال کی کھپت بھی نہیں بڑھ سکتی۔ صنعتی ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانا بھی ناگزیر ہو چکاہے۔

جب ملکی صنعتوں کو سستی توانائی اور خام مال پر کم ٹیکسز کی سہولت میسر ہو گی تو برآمدات میں ازخود اضافہ ہوگا جس سے تجارتی خسارہ کم ہو گا اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔ ایسے وقت میں جب ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید ترین اثرات کا سامنا ہے‘ بجٹ میں ماحولیاتی تحفظ کیلئے فنڈنگ میں خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے ۔ حالیہ عرصے میں بے وقت بارشوں اور شدید گرمی کی لہروں نے زراعت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے ‘ اس کی تلافی کے اقدامات پر بھی حکومتی توجہ ضروری ہے۔ پاکستان کو اب روایتی بجٹ کے بجائے ’گرین بجٹ‘ کی طرف منتقل ہونا پڑے گا‘ جہاں ترقیاتی منصوبوں کو کلائمیٹ کے تحفظ سے مشروط کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی تیزی سے بڑھتی غربت اور مہنگائی کی لہر سے نبرد آزما متوسط اور پسماندہ طبقات کو بچانے کیلئے سماجی تحفظ کے اقدامات کا دائرہ وسیع کرنا ہو گا۔ سماجی اخراجات کو مالی بوجھ کے بجائے قومی پیداوار اور معاشی مسابقت میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پالیسی سازوں کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ بجٹ مالیاتی اداروں کے قرضوں کی شرائط پوری کرنے کی دستاویز نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد ایک مستقل‘ طویل مدتی اور مستحکم معاشی روڈ میپ مہیا کرنا ہونا چاہیے جو ملکی معیشت اور مالیاتی انتظام کو مضبوط و مستحکم بنا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں