اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پنجاب کا بجٹ

حکومتِ پنجاب نے مالی سال 2026-27ء کیلئے 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بظاہر یہ بجٹ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں حجم میں 10.7فیصد بڑا ہے اور حکومت اسے معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ لیکن کسی بھی بجٹ کا سب سے اہم پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے شعبوں کو کتنی ترجیح دیتا ہے۔ تعلیم اور صحت کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں مگر پنجاب کے نئے میزانیے کی تفصیلات دیکھنے سے یہ حیران کن انکشاف ہوتا ہے کہ بنیادی اہمیت کے حامل یہ دونوں شعبے حکومتی ترجیحات میں بہت پیچھے رہ گئے۔ حکومتِ پنجاب نے آئندہ مالی سال میں شعبہ تعلیم کیلئے 750 ارب روپے تجویز کیے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں یہ رقم تقریباً 812ارب روپے تھی۔ جبکہ صحت کیلئے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 130ارب کم ہیں۔ تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کمی ‘ جبکہ یہ دونوں شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں‘حکومتی ترجیحات پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح زراعت بھی بجٹ میں وہ اہمیت حاصل نہیں کر سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

بجٹ میں زراعت‘ لائیوسٹاک اور ایری گیشن یعنی تین شعبوں کیلئے مجموعی طور پر 132ارب 54کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کسان مہنگی کھاد‘ مہنگے بیج‘ بجلی کے بڑھتے نرخوں‘ پانی کی کمی اور ناقص مارکیٹنگ نظام کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے لیکن بجٹ میں کسانوں کی آمدنی میں اضافے کیلئے کوئی بڑی اور انقلابی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب بجٹ میں کئی مثبت پہلو بھی ہیں جیسے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات اور پنشنرز کیلئے ساڑھے تین فیصد اضافہ۔ صاف پانی اور نکاسی آب کیلئے 507 ارب روپے کی خطیر رقم تجویز۔ اسی طرح امن و امان کیلئے 252 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں‘ یہ خطیر رقم ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اس شعبے کو اہمیت دے رہی ہے۔ پولیس انفراسٹرکچر‘ کرائم سین یونٹس اور جدید نظامِ تفتیش پر سرمایہ کاری یقینا ضروری ہے تاہم امن و امان کی صورتحال صرف پولیسنگ سے بہتر نہیں ہو سکتی بلکہ اس کیلئے تعلیم‘ روزگار اور سماجی انصاف بھی ناگزیر عناصر ہیں۔بجٹ کا ایک حیران کن پہلو ترقیاتی فنڈ میں نمایاں کٹوتی ہے۔ رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی فنڈ تقریباً 1240 ارب روپے تھا جسے کم کرکے 752 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

ترقیاتی بجٹ میں نمایاں کمی کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے‘ نئی سڑکوں‘ آبی منصوبوں‘ شہری سہولتوں‘ صنعتی زونز اور سماجی ترقی کے متعدد منصوبے سست روی کا شکار ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ حکومتی ترجیحات کا بڑا امتحان ہو گا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں موزوں ترین پراجیکٹس کو اہمیت دے۔ بجٹ کی مجموعی تصویر یہی بتاتی ہے کہ حکومت نے پائیدار انسانی ترقی‘ زرعی بحالی اور بنیادی عوامی خدمات کے مقابلے میں وقتی اقدامات کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ اگر سکولوں‘ ہسپتالوں‘ کھیتوں اور روزگار کے مواقع کیلئے وسائل کم ہوتے جائیں اور مہنگائی تسلسل سے بڑھتی رہے تو بجٹ عوام کیلئے محض اعداد و شمار کا الجھاؤ بن کر رہ جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں