اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ترقیاتی فنڈز کا عدم استعمال

وفاقی حکومت رواں مالی سال کے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص فنڈز کا بڑا حصہ خرچ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی پی ایس ڈی پی کا ابتدائی حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسے کم کرکے 837 ارب روپے کر دیا گیا لیکن 11مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں پر صرف 530 ارب روپے خرچ کیے جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سینکڑوں ارب روپے کے ترقیاتی وسائل یا تو استعمال ہی نہیں ہو سکے یا اُن منصوبوں تک نہیں پہنچ سکے جن کیلئے یہ مختص کیے گئے تھے۔ ترقیاتی فنڈز کے بروقت اور مکمل استعمال میں ناکامی کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی‘ شہری توسیع‘ پانی اور توانائی کے مسائل‘ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات اور جدید معیشت کے تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ترقیاتی منصوبے صرف شروع ہی نہ کیے جائیں بلکہ انہیں مقررہ وقت اور لاگت کے اندر مکمل بھی کیا جائے۔ مختص شدہ ترقیاتی فنڈز کا عدم استعمال محض ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ قومی وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے‘ ذمہ داروں کا تعین کرے اور آئندہ مالی سال میں ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں