اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بیرونی سرمایہ کاری میں کمی

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 28 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ جولائی تا مئی میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری ایک ارب 62کروڑ ڈالر تک محدود رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ دو ارب 67 کروڑ ڈالر تھی۔ ترقی پذیر خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کیلئے بیرونی سرمایہ کاری معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کے اثرات محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات صنعتی سرگرمیوں‘ روزگار‘ زرِمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی نمو پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں جن میں پالیسیوں کا عدم تسلسل‘ کاروباری لاگت میں اضافہ‘ توانائی کے بلند نرخ‘ پیچیدہ ریگولیٹری نظام اور سیاسی غیریقینی سرفہرست ہیں۔

حکومت اگر بیرونی سرمایہ کاری میں حقیقی اضافہ چاہتی ہے تو اسے اعلانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔ سرمایہ کاروں کو شفاف‘ قابلِ پیش گوئی اور طویل مدتی پالیسی ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ نیز کاروبار کے آغاز اور توسیع کے مراحل کو آسان بنانا‘ توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات‘ معاہدوں کے تحفظ کی ضمانت‘ انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ اور سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سرمایہ کار اعتماد چاہتے ہیں اور یہ اعتماد زبانی وعدوں سے نہیں بلکہ مستقل‘ شفاف اور نتیجہ خیز پالیسیوں سے حاصل ہوتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں