شاندار سفارتی کامیابی اور تقاضے
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی اَنتھک کوششوں‘ سفارتی بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کو ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے ذریعے ایک طویل اور سنگین تنازع کے پُرامن حل کی طرف لانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وہ شاندار اعزاز ہے جس نے اسے عالمی برادری کا مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ‘ یورپی یونین اور برطانوی ایوانِ بالا سے عالمی میڈیا تک‘ ہر جگہ پاکستان کے اس تعمیری کردار کی گونج سنائی دے رہی ہے‘ جس نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ فعال سفارتکاری سے آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں کی بحالی اور عالمی امن کے قیام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی بساط پہ ایک ذمہ دار اور انتہائی اہم تزویراتی کھلاڑی ہے۔ سفارتی محاذ پر حاصل ہونیوالی یہ غیر معمولی کامیابی اس حقیقت کی مظہر ہے کہ جب ملکی قیادت اور ادارے یکسو ہو کر مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو بظاہر ناممکن نظر آنے والے اہداف بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس پذیرائی نے جہاں عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا ہے وہیں داخلی حالات کے حوالے سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

خارجہ امور میں دکھائی دینے والی اس تگ ودو کی اب اندرونِ ملک سیاسی‘ معاشی اور سماجی استحکام کیلئے بھی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک عالمی سطح پر پائیدار اثر و رسوخ اس وقت تک برقرار نہیں رکھ سکتا جب تک اس کی جڑیں اندرونی طور پر مضبوط نہ ہوں۔ اس وقت پاکستان کو جس نوعیت کے سیاسی و سماجی بحران کا سامنا ہے‘ اسے ختم کرنے کیلئے اسی عزم اور مصالحت پسندی کی ضرورت ہے جو ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کیلئے دکھائی ہے۔ اندرونی سطح پر سیاسی جماعتوں اور اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز میں وسیع تر قومی مفاہمت ناگزیر ہو چکی ہے۔ جب تک ملک سے سیاسی بے یقینی اور سماجی اضطراب کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کے ثمرات سے طویل عرصے تک مفاد کشید کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں معیشت میں جزوی استحکام دیکھنے کو ملا ہے لیکن بنیادی سطح پر معیشت اب بھی جمود کا شکار ہے۔ یہ صورتحال ملک کی شاندار سفارتی کامیابیوں اور عالمی ساکھ سے بالکل میل نہیں کھاتی۔ ایک طرف پاکستان دنیا کے بڑے بحرانوں کو حل کرنے کیلئے ایک مضبوط اور باوقار ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور دوسری طرف زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کیلئے دوست ممالک کے ڈیپازٹس اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کا رہین ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان عسکری اور سفارتی‘ دونوں محاذوں پر اپنے آپ کو منوا چکا ہے‘ اب ضروری ہے کہ خود کو معاشی میدان میں منوانے کا بیڑا اٹھایا جائے۔
حالیہ سفارتی کامیابی نے اس حوالے سے ایک نیا موقع فراہم کیا ہے کہ امریکہ‘ ایران اور مشرقِ وسطیٰ سمیت بیرونی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئے تجارتی فریم ورک میں ڈھالا جائے۔ ایران سے سستی توانائی کے حصول کے منصوبوں کے علاوہ خلیجی اور مغربی ممالک کیساتھ تجارتی حجم میں اضافے کیلئے اس سیاسی ساکھ کو بروئے کار لایا جائے۔ آج کی دنیا اکنامک ڈپلومیسی کی طرف بڑھ رہی اور اب وہی ممالک اپنا مقام برقرار رکھ سکتے ہیں جو معاشی اور تجارتی طور پر خود کو ناگزیر بنائیں۔ لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش‘ دیرپا معاشی معاہدوں اور بڑے پیمانے پر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ پاکستان کی اس عظیم سفارتی کامیابی کا پھل عام آدمی تک ضروریاتِ زندگی کے حصول میں آسانی‘ مہنگائی میں کمی اور روزگار کے نئے مواقع کی صورت میں پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔ مضبوط دفاع‘ فعال سفارتکاری اور عوامی فلاح یکجا ہو کر ہی ایک حقیقی‘ مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔