انسانی اعضا کی سمگلنگ
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اسلام آباد میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران 500کلو انسانی اعضا اور پانچ سمگلروں کو گرفتار کیا ہے۔ اگر ملک کے سب سے محفوظ اور حساس سمجھے جانے والے شہر میں اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دور دراز علاقوں میں صورت حال کیا ہو گی۔اگرچہ ملک میں اس گھناؤنے فعل کو روکنے کیلئے ادارے اور قوانین موجود ہیں لیکن یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف چند جرائم پیشہ افراد کا نہیں بلکہ نگرانی‘ احتساب اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمزوری کا بھی ہے۔ انسانی اعضا کی غیرقانونی تجارت ایسا جرم نہیں جو چند افراد خاموشی سے انجام دے سکیں۔ اس کیلئے طبی سہولتیں‘ متعدد دستاویزات‘ نقل و حمل‘ مالی لین دین اور بعض اوقات اندرونی سہولت کاری بھی درکار ہوتی ہے۔

اگر اس سب کے باوجود ایسے نیٹ ورک سرگرم ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں سنگین خلا ادارہ جاتی نظام میں موجود ہے۔ حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے وقتی چھاپوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تمام سرکاری و نجی مراکز میں اعضا کی پیوند کاری کا ڈیجیٹل ریکارڈ‘ حیاتیاتی مواد کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی‘ نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کا باقاعدہ آڈٹ‘ اور غیر قانونی پیوند کاری میں ملوث افراد کیساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں کو بھی سخت سزائیں دینا ناگزیر ہے تاکہ یہ گھناؤنا دھندا یہیں رک سکے۔